مودی کے الزامات بے بنیاد، اشتعال انگیز، بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینگے: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد(این این آئی)پاکستان نے بھارتی وزیراعظم کی جانب سے اشتعال انگیز بیان کے بعد دوبارہ دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے کوئی بھی اشتعال انگیزی کی تو اسلام آباد اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات محض اشتعال انگیزی نہیں بلکہ علاقائی سلامتی کیلئے سنجیدہ خطرہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے الزامات محض پروپیگنڈے کا حصہ ہیں، جو خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے، لیکن دفاع اس کا آئینی اور بین الاقوامی حق ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اگر سرحد پار سے کسی بھی قسم کی جارحیت ہوئی، تو پاکستان پوری قوت سے ردعمل دے گا۔ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ نئی دہلی کی جنگی زبان اور خطرناک عزائم کا نوٹس لے کیونکہ ایسے بیانات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔