اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، تعاون مضبوط بنانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحٰق ڈار کے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان علاقائی صورتحال کی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا۔ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام 2025 اور 2026 کے بارے میں کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں منصوبہ بندی، اقتصادی امور اور فوڈ سکیورٹی کے وزراء، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، سیاسی امور سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی، سیکرٹری منصوبہ بندی اور متعلقہ محکموں کے دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ پلاننگ کمیشن نے پی ایس ڈی پی کے جاری منصوبوں کی صورتحال، آئندہ مالی سال کے لیے تجویز کردہ ترجیحات اور عمل درآمد میں درپیش چیلنجز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں مالیاتی رکاوٹوں کے درمیان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اہمیت پر زور دیا گیا اور پی ایس ڈی پی کا تفصیلی جائزہ لینے اور قابل عمل سفارشات پیش کرنے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اسحاق ڈار نے کہا ٹھوس سماجی و اقتصادی فوائد خاص طور پر روزگار کی تخلیق، غربت میں کمی اور علاقائی مساوات کی فراہمی ضروری ہے جو وزیر اعظم کے اڑان پاکستان کے وژن کے ساتھ ہم آہنگ اور جدت پر مبنی ترقی کے لیے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔