جناح ہا ئو س حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 254 رہنما ئو ں اورکارکنوں پر فرد جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
جناح ہا ئو س حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 254 رہنما ئو ں اورکارکنوں پر فرد جرم عائد WhatsAppFacebookTwitter 0 24 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے جناح ہا ئو س حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 254 رہنماں اور کارکنوں پر فرد جرم عائد کردی۔ انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں جناح ہاس حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کی۔
عدالت نے جناح ہا ئوس حملے کے مقدمے میں 254 ملزمان پر فرد جرم عائدکردی۔عدالت کی جانب سے عالیہ حمزہ، روبینہ جمیل، خدیجہ شاہ، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور محمود الرشید سمیت دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکارکیا ہے۔ جناح ہاس حملے کے دو ملزم وفات پا چکے ہیں جب کہ مقدمے میں 10 ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسنوکر میں پاکستان کی تاریخی فتح، بڑے ٹورنامنٹ میں بھارت کو دھول چٹادی اسنوکر میں پاکستان کی تاریخی فتح، بڑے ٹورنامنٹ میں بھارت کو دھول چٹادی بھارت کے وزیرِ خارجہ سے اب تک کوئی بات نہیں ہو رہی، وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ پچیس کروڑ کی آبادی کا پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا: رضوان سعید شیخ بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب آرمی چیف کا سیاسی قیادت کے اعزاز میں عشائیہ،نوجوانوں کو فولادی دیوار قرار دیا فیض حمید کا کورٹ مارشل کہاں تک پہنچا؟کتنی سزا ہونے کا امکان ہے؟تفصیلات سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جناح ہا ئو حملہ کیس سب نیوز
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔