لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے محکمہ جنگلات میں اجرتوں کی ادائیگی میں شفافیت کے لیے جدید برانچ لیس بینکاری نظام نافذ کر دیا۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز نے 100 سالہ پرانا نظام ختم کر کے یومیہ اُجرت پر جنگلوں میں کام کرنے والے محنتی مزدوروں کے لیے جدید، محفوظ اور باعزت ادائیگی نظام متعارف کروا دیا۔

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو اب اجرت براہ راست موبائل بینکنگ اکاؤنٹ میں ملے گی جبکہ تصدیق ایس ایم ایس اور بائیو میٹرک کے ذریعے ہوگی۔

بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ کروڑوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا 

 سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’’شفافیت وزیر اعلیٰ پنجاب کا مشن ہے، محکمہ جنگلات کا اقدام اس وژن کی عملی تعبیر ہے۔ ہر سرکاری ادائیگی کے نظام میں شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ نقدی نظام میں موجود بدعنوانی، تاخیر اور کٹوتی جیسے مسائل اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔‘‘

محکمہ جنگلات اور پنجاب بینک کے باہمی اشتراک سے برانچ لیس بینکاری کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ محکمہ جنگلات کا یہ منفرد قدم عالمی معیار کی گڈ گورننس اور مالی شفافیت کی جانب انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت نے ایسے شخص کو پاکستان کیلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا کہ سن کر آپ کی ہنسی نہیں رکے گی 

سینیئر وزیر نے کہا کہ ’’یہ نظام مزدور طبقے کا اعتماد بحال کرے گا اور انہیں مالی تحفظ فراہم کرے گا۔ ہم ہر شعبے میں ٹیکنالوجی، شفافیت اور عوامی بھلائی کو ترجیح دے رہے ہیں — محکمہ جنگلات نے ایک مثال قائم کر دی۔‘‘

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: محکمہ جنگلات

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی