صہیونی میڈیا رپورٹس کے مطابق صہیونی آباد کار یمنی بیلسٹک میزائلوں کے خوف سے پناہ گاہوں کی طرف بھاگ گئے۔ حملے کے بعد بین گوریون ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی فوج کی جانب سے اسرائیل کے بین گوریان ایئرپورٹ پر میزائل حملے کے بعد پروازیں معطل ہو گئی ہیں اور  ہزاروں صیہونی پناہ گاہوں کی جانب بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یمن سے میزائل کے داغے جانے کے بعد تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطین کے بڑے علاقوں میں انتباہی سائرن بج گئے تھے۔ اسرائیلی خبر رساں ذرائع نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ تل ابیب اور مقبوضہ مغربی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطین کے بڑے علاقوں میں انتباہی سائرن فعال کر دیے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ہمیشہ کی طرح دعویٰ کیا کہ اس کے دفاعی نظام نے یمن سے فائر کیے گئے میزائل کو مقبوضہ فلسطینی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا تھا۔ صہیونی میڈیا رپورٹس کے مطابق صہیونی آباد کار یمنی بیلسٹک میزائلوں کے خوف سے پناہ گاہوں کی طرف بھاگ گئے۔ حملے کے بعد بین گوریون ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ یمنی فوج نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ادھر عرب میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق یمن کی جانب سے فائر کیا جانے والا میزائل ہائپر سونک تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پروازیں معطل حملے کے بعد کے مطابق

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش