بن گوریان ائیرپورٹ پر یمن کا کامیاب میزائل حملہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں یحییٰ سریع کا کہنا تھا کہ بن گوریان ائیرپورٹ پر ابھی تک بیرونی پروازوں کا داخلہ منع ہے اور گزشتہ دِنوں میں متعدد ائیر لائنز نے ہماری دی گئی ریڈ لائن پر عمل بھی کیا جس سے اس ہوائی اڈے کی فعالیت میں خاصی کمی آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان "یحییٰ سریع" نے "بن گوریان" ائیر پورٹ پر کامیاب بلیسٹک میزائل حملے کی خبر دی۔ یحییٰ سریع نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یمنی افواج کے میزائل یونٹ نے ایک منفرد فوجی کارروائی میں مقبوضہ یافا کے علاقے میں واقع بن گوریان ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی بلیسٹک میزائل سے انجام دی گئی جو باآسانی اپنے ہدف پر جا لگا۔ جس کے بعد سیکنڑوں صیہونی، پناہ گاہوں میں چھپ گئے اور کچھ دیر کے لئے مذکورہ ائیرپورٹ بند کر دیا گیا۔ یحییٰ سریع نے مزید کہا کہ بن گوریان ائیرپورٹ پر ابھی تک بیرونی پروازوں کا داخلہ منع ہے اور گزشتہ دِنوں میں متعدد ائیر لائنز نے ہماری دی گئی ریڈ لائن پر عمل بھی کیا جس سے اس ہوائی اڈے کی فعالیت میں خاصی کمی آئی ہے۔
یحییٰ سریع نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں روزانہ کی بنیاد پر جاری قتل و غارت گری نے ہمیں اس بات پر مجبور کیا کہ یمنی قیادت، عوام اور فوج اپنی کارروائیوں میں مزید تیزی لائے تا کہ خزہ کے خلاف جاری جارحیت اور محاصرے کا خاتمہ ہو سکے۔ واضح رہے کچھ ہی دیر قبل صیہونی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی کہ یمنی سرزمین سے تل ابیب کی جانب ایک بلیسٹک میزائل داغا گیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اُن کا ڈیفنس سسٹم اس حملے کا مقابلہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب بعض ذرائع نے بن گوریان ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن کی معطلی کی خبر دی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ یمنی فوج نے حالیہ ہفتوں میں فلسطین کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف اپنے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا۔ حتیٰ کہ یمن، اسرائیل کی بحری ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ فضائی محاصرے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بن گوریان ائیرپورٹ پر کہ یمنی
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔