UrduPoint:
2026-06-03@00:26:40 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی کو عہدے پر بحال کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 26 مئی ۔2025 )اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایچ ای سی سے برخاست کیے گئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا القیوم کی عہدے پر بحالی اور حکم امتناع کی فوری استدعا مسترد کر دی ہے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ڈاکٹر ضیا القیوم کی عہدے پر بحالی کی درخواست پر سماعت کی.
(جاری ہے)
جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دئیے کہ پہلے کمنٹس آجانے دیں پھر دیکھ لیں گے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت حکم امتناع جاری کر دے کیونکہ نئی تعیناتی کے لیے گزشتہ روز اشتہار بھی جاری ہوگیا ہے جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ہم ایسے حکم امتناع جاری نہیں کر سکتے، پہلے جواب آجانے دیں سپریم کورٹ کی واضح ہدایات ہیں کہ اداروں اور ایچ ای سی کے کام میں مداخلت نہیں کرنی ہم نوٹس کرکے جواب مانگ لیتے ہیں جواب آ جائے تو پھر دیکھیں گے. وکیل عمران شفیق نے کہا کہ ڈاکٹر ضیا القیوم کی تعیناتی چار سال کے لیے انتظامی ڈھانچے کے عین مطابق ہوئی، ایچ ای سی نے غیر قانونی طور پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو نوکری سے برخاست کیا وکیل نے استدعا کی کہ عدالت پھر لمبی تاریخ کے بجائے ایک ہفتے کی تاریخ دے دے. جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ میں آئندہ تاریخ سے متعلق آرڈر میں لکھ دوں گا ڈاکٹر ضیا القیوم نے ایچ ای سی کی جانب سے نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی ایچ ای سی نے ڈاکٹر ضیا القیوم کو نوکری سے برخاست کر دیا تھا عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی، کیس کی آئندہ تاریخ تحریری حکمنامہ میں جاری ہوگی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انعام امین منہاس نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسلام آباد ایچ ای سی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔