UrduPoint:
2026-06-02@22:51:31 GMT
تحریک انصاف کا ممکنہ احتجاج ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف بھاری نفری تعینات، قیدی وین اوربکتربند گاڑیاں پہنچا دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27 مئی 2025)پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلا م آباد ہائیکورٹ کے اطراف بھاری نفری تعینات کر دی گئی، قیدی وین اور بکتر بند گاڑیاں بھی ہائی کورٹ کے باہر پہنچا دی گئی ہیں، احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں، سیکورٹی اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے الرٹ کر دیا گیا ہے۔
بتایاگیا ہے کہ عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آج احتجاج کی کال دی گئی تھی اس تناظر میں آج اسلام آباد ہائی کورٹ اور دیگر مقامات پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی اور کارکنان اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کیلئے جمع ہو گئے ہیں۔(جاری ہے)
پی ٹی آئی ارکان اسمبلی و کارکنان عدلیہ سے اظہار یکجہتی کریں گے۔
تحریک انصاف کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ 190 ملین پاونڈز نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کیس تاحال مقرر نہیں ہو سکا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت آج پھر کیس مقرر کروانے کیلئے ہائیکورٹ آئے گی۔پی ٹی آئی رہنماﺅںکاکہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے کیس مقرر نہ ہونے پر پارٹی میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ آج ہم ایک بار پھر عدالت سے کیس مقرر کرنے کی اپیل کرینگے۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخواہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر آج بھرپور احتجاج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی زنجیریں توڑ کر بانی کے کیسز سنے جائیں۔ عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی پی ٹی آئی کے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سینیٹر شبلی فراز اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے جہاں انہوں نے کیس کی جلد سماعت کیلئے عدالتی حکام سے رابطے کئے۔ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے سزا معطلی کا کیس مقرر کروانے کیلئے سرگرم کوششیں جاری تھیں۔ پی ٹی آئی رہنماء شبلی فراز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ رہنماء پی ٹی آئی نے کہا کہ کسی کیلئے انصاف کے دروازے بند ہونے سے عدم استحکام ہوگا۔ قائم مقام چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر اور لطیف کھوسہ کو کمٹمنٹ کی تھی کہ رواں ہفتے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواستیں مقرر ہونی تھیں۔ قائم مقام چیف جسٹس نے وعدہ کیا تھا کسی عام آدمی نے نہیں اور قائم مقام چیف جسٹس کے وعدے میں کوئی بات تو ہوگی۔ انہوں نے کہا تھاکہ ہم آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم پریشر ڈالنے کیلئے آتے رہیں گے۔سائل عدالت میں انصاف لینے آتے ہیں اور اگر سائل کو انصاف فراہم نہ کیا جائے تو یہ زیادتی ہے۔ہم کوشش کر رہے ہیں بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگیں اور میرٹ پر فیصلے ہوں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام آباد ہائی کورٹ بانی پی ٹی آئی ہائی کورٹ کے تحریک انصاف پی ٹی آئی کے کیس مقرر نے کہا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔