جلد ہی کراچی سے ویزوں کا اجراء شروع کرینگے، عراقی قونصل جنرل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
شیخ الجامعہ کراچی کیساتھ ملاقات میں ڈاکٹر ماہر مجہد جیجان نے کہا کہ اب عراق جانے کیلئے ویزا کی درخواست اسلام آباد میں جمع کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں عراقی قونصل جنرل ڈاکٹر ماہر مجہد جیجان نے کہا ہے کہ اب عراق جانے کیلئے ویزا کی درخواست اسلام آباد میں جمع کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، جلد ہی جمہوریہ عراق کا قونصل خانہ کراچی سے ویزوں کا اجراء شروع کر دے گا اور دلچسپی رکھنے والے افراد کراچی سے ہی یہ سارا عمل مکمل کر سکیں گے۔ عراقی قونصل جنرل نے یہ بات پیر کو جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی سے وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں ملاقات میں کہی۔ اس موقع پر جمہوریہ عراق کے سفارتی اتاشی عماد یاسین، صباح فراج اور پروٹوکول آفیسر عبدالغفار بنگلانی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر ماہر مجہد جیجان نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کو عراق کے تعلیمی نظام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباً 2 لاکھ ملین عراقی نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی اور بغداد یونیورسٹی اور عراق کے دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبہ جات میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
عراقی قونصل جنرل نے امید ظاہر کی کہ جامعہ کراچی کی فیکلٹی کے وسیع تجربے سے عراقی نوجوانوں کو اے آئی اور دیگر شعبہ جات میں بہت کچھ سیکھنے کے مواقع میسر آسکیں گے، عراق بلاشبہ تاریخ اور ثقافت کے حامل ممالک میں سے ایک ہے اور اس کا تعلیمی نظام بھی دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت اچھا ہوگا کہ پاکستانی اور بالخصوص جامعہ کراچی کے طلباء مزید تعلیم کیلئے عراق جائیں اور عراقی طلباء یہاں سیکھنے اور حصول علم کیلئے آئیں۔ ڈاکٹر ماہر مجہد جیجان نے کہا کہ چارج سنبھالنے کے بعد یہ کسی بھی جگہ کا ان کا پہلا دورہ ہے۔
اس موقع پر شیخ الجامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی نے تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ متعلقہ شعبہ جات کو ہدایات جاری کریں گے، تاکہ ہم عراقی طلباء کیلئے اپنے دروازے کھول سکیں۔ ڈاکٹر خالدعراقی نے عراقی قونصل جنرل کو بتایا کہ بہت سے افریقی اور ایشیائی طلباء جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم ہیں اور اب غیرملکی طلبہ ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگراموں میں بھی داخلہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراقی طلباء کی شمولیت سے کیمپس یقیناً عراق کی ثقافت، تاریخ سے روشناس اور تعلیمی پس منظر کے بارے میں بہت کچھ سیکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ماہر مجہد جیجان نے جامعہ کراچی کے نے کہا کہ شعبہ جات
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔