غزہ: بچوں کی ڈاکٹر نے 9 بچے کھو دیے، شوہر و آخری بچہ موت کی دہلیز پر
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
غزہ کی ماہر امراض اطفال کے گھر پر اسرائیلی حملے کی صورت میں انہوں نے 10 میں 9 بچے کھو دیے جبکہ بچ جانے والا آخری بچہ اور شوہر زندگی و موت کی کشمکش میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کے اسکول پر اسرائیلی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 20 فلسطینی شہید
اسپتال کے حکام کے مطابق جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے قریب اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایک ماہر اطفال اور 10 بچوں کی ماں علاء النجر اپنے 9 بچوں کی موت پر سوگ منا رہی ہے۔
ڈاکٹر علاء النجر کے شوہر، جو خود بھی ایک ڈاکٹر بھی ہیں، اس حملے میں شدید زخمی ہوئے اور اب انتہائی نگہداشت میں ہیں۔ حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق ان کا واحد زندہ بچ جانے والا بچہ بھی زخمی ہے۔
ڈاکٹر منیر البرش نے کہا کہ یہ وہ حقیقت ہے جو غزہ میں ہمارا طبی عملہ برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درد کو بیان کرنے کے لیے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں، صرف صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا جاتا بلکہ اسرائیل اپنی جارحیت کے دوران پورے پورے خاندانوں کا صفایا کردیتا ہے۔
مزید پڑھیے: اسرائیل کا غزہ کے 77 فیصد علاقے پر قبضہ، مزید 23 فلسطینی شہید
ناصر میڈیکل کمپلیکس میں تحریر کلینک کے شعبہ اطفال اور زچگی کے سربراہ ڈاکٹر احمد الفارہ نے میڈیا کو ایک ٹیلی فون انٹرویو میں بتایا کہ النجر کام پر تھی جب انہیں یہ اندوہناک اطلاع ملی کہ حملے ان کے علاقے قزان النجر کو نشانہ بنایا ہے۔
ڈاکٹر احمد نے بتایا کہ النجر کو ایسا محسوس ہوا کہ ان کے گھر پر حملہ ہوا ہوگا (جو بعد میں درست ثابت ہوا) اور بغیر کسی ٹراسپورٹ کے ہی اپنے گھر کی جانب جانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ جب ڈاکٹر النجر اپنے گھر پہنچیں تو وہاں سب برباد ہوچکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ شہید ہونے والے بچوں میں 5 لڑکے اور 4 لڑکیاں تھیں جن میں سب سے چھوٹی 7 ماہ کی بیٹی اور سب سے بڑا 12 سالہ بیٹا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ بچے مکمل طور پر جل چکے تھے۔
ڈاکٹر احمد نے کہا کہ ایک بچہ جو بچ گیا، النجر کا 11 سالہ بیٹا ہے جس کی 2 سرجریز کرنی پڑیں اور وہ اسپتال میں تشویشناک حالت میں ہے۔ الفرا نے کہا کہ النجر کے شوہر بھی سرجری کے بعد بھی تشویشناک حالت میں اسپتال میں ہیں اور ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹنی پڑ سکتی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی انسانی امداد غزہ کے سب سے بڑے اسپتالوں میں سے ایک ناصر میڈیکل کمپلیکس تک پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک کچھ نہں ملا۔
مزید پڑھیںں: غزہ: غذا جانوروں کا چارہ، بچے مرنے کے لیے باری کے منتظر
اقوام متحدہ کی فوڈ اسسٹنس برانچ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق جنگ زدہ علاقے میں 20 لاکھ افراد انتہائی بھوک اور قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔
حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے حملوں میں 7 اکتوبر 2023 اب تک غزہ میں 53 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں بچوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق بتایا کہ غزہ کی
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ