بلاوا آئے تو کون روک سکے۔۔۔ جہاز نے حاجی کے بنا اڑنے سے انکار کردیا، پائلٹ بے بس
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
ارادہ مصمم اور نیت نیک ہو تو کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے۔ لیبیا کے عازم حج پر جانے کیلئے ایئرپورٹ پہنچے لیکن پاسپورٹ میں مسئلہ آیا اور انہیں روک لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جہاز نے 2 بار اڑان بھری لیکن فنی خرابی کے باعث اسے واپس لوٹنا پڑا۔
لیبیا کے عامرالمھدی منصور القذافی کی حیران کن داستان نے سب کو حیران کر دیا۔
حج کی سعادت حاصل کرنے والے لیبیا کے عازم عامرالمھدی ائیرپورٹ پہنچے تو انہیں کلیئرنس نہ ملی۔
اس دوران جہاز نے اڑان بھرلی جس کے بعد اچانک طیارے میں فنی خرابی پیدا ہوئی اور اسے واپس لوٹنا پڑا۔ پائلٹ نے عامر کو بٹھانے سے انکار بھی کر دیا تھا۔ مگر مردِ مومن تو مایوس ہوا نہ ہی گھر لوٹا۔
عازم کا کہنا تھا کہ یہ جہاز میرے بغیر نہیں جائے گا، یہ پھر لوٹے گا۔ جہاز نے پھر اُڑان بھری لیکن دوبارہ مسئلہ آگیا،طیارے کو واپس اتار لیا گیا۔
بعد ازاں پائلٹ نے اس بار ہار مانتے ہوئے کہا کہ جب تک عامر نہیں جائے گا فلائٹ نہیں جائے گی۔
عامر المہدی بالاخر طیارے میں سوار ہوئے اور اس بار بغیر کسی فنی خرابی کے جہاز سعودی عرب میں لینڈ کرگیا۔
ویڈیو میں مہدی لباسِ احرام پہنے نظر آئے اور کہا کہ الحمد للہ! میں بیت اللہ پہنچ چکا ہوں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جہاز نے
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔