ارادہ مصمم اور نیت نیک ہو تو کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے۔ لیبیا کے عازم حج پر جانے کیلئے ایئرپورٹ پہنچے لیکن پاسپورٹ میں مسئلہ آیا اور انہیں روک لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جہاز نے 2 بار اڑان بھری لیکن فنی خرابی کے باعث اسے واپس لوٹنا پڑا۔

لیبیا کے عامرالمھدی منصور القذافی کی حیران کن داستان نے سب کو حیران کر دیا۔

حج کی سعادت حاصل کرنے والے لیبیا کے عازم عامرالمھدی ائیرپورٹ پہنچے تو انہیں کلیئرنس نہ ملی۔

اس دوران جہاز نے اڑان بھرلی جس کے بعد اچانک طیارے میں فنی خرابی پیدا ہوئی اور اسے واپس لوٹنا پڑا۔ پائلٹ نے عامر کو بٹھانے سے انکار بھی کر دیا تھا۔ مگر مردِ مومن تو مایوس ہوا نہ ہی گھر لوٹا۔

عازم کا کہنا تھا کہ یہ جہاز میرے بغیر نہیں جائے گا، یہ پھر لوٹے گا۔ جہاز نے پھر اُڑان بھری لیکن دوبارہ مسئلہ آگیا،طیارے کو واپس اتار لیا گیا۔

بعد ازاں پائلٹ نے اس بار ہار مانتے ہوئے کہا کہ جب تک عامر نہیں جائے گا فلائٹ نہیں جائے گی۔

عامر المہدی بالاخر طیارے میں سوار ہوئے اور اس بار بغیر کسی فنی خرابی کے جہاز سعودی عرب میں لینڈ کرگیا۔

ویڈیو میں مہدی لباسِ احرام پہنے نظر آئے اور کہا کہ الحمد للہ! میں بیت اللہ پہنچ چکا ہوں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جہاز نے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا