پاکستان کی معیشت اہم موڑ پر: فارما انڈسٹری کیلئے ٹیکس اصلاحات ناگزیر
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
پاکستان کی معیشت ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے حالات اور ملکی مالی دباؤ کے پیشِ نظر برآمدات کو بڑھانا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا وقت کی اشد ضرورت بن چکی ہے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوا سازی کی صنعت جو اکثر پالیسی سازوں کی توجہ سے محروم رہی ہے، محض صحت کی سہولت فراہم کرنے والی صنعت نہیں بلکہ ایک ممکنہ بڑی برآمداتی قوت بھی ہے۔ مگر اس صلاحیت کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ترقی پسند، مخصوص اور نمو کو فروغ دینے والی ٹیکس اصلاحات ضروری ہیں۔
بدقسمتی سے موجودہ ٹیکس نظام اس شعبے میں سرمایہ کاری، ازسرنو سرمایہ کاری اور وسعت کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے۔ برآمدی دوا ساز ادارے بھاری ٹیکس بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں۔ جہاں پہلے صرف برآمدی آمدن پر 1 فیصد ٹیکس تھا، اب ان کمپنیوں کو منافع پر 29 فیصد کم از کم ٹیکس اور بعض صورتوں میں سپر ٹیکس بھی ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی منڈیاں سخت مسابقت کا شکار ہیں اور دیگر ممالک اپنی برآمدی صنعتوں کو بھرپور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور دور اندیش ٹیکس ریلیف منصوبہ پیش کیا گیا ہے تاکہ دوا سازی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے اور اسے ایک تیز رفتار برآمدی صنعت میں بدلا جا سکے۔
اس منصوبے کا مرکزی نکتہ ان دوا ساز برآمدی یونٹس کے لیے ٹیکس کریڈٹ کی سہولت ہے جو سالانہ طور پر ترقی دکھائیں۔ یہ سہولت برآمد کنندگان پر مالی دباؤ کم کرے گی اور مصنوعات کی ترقی، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور نئی منڈیوں میں داخلے کے لیے سرمایہ کاری کو ممکن بنائے گی۔
اس کے متبادل کے طور پر ایک درجہ بندی پر مبنی ٹیکس کریڈٹ سسٹم متعارف کروایا جا سکتا ہے جو بتدریج برآمدات میں اضافے سے منسلک ہو۔ مثال کے طور پر 5 تا 10 فیصد اضافہ کرنے والی کمپنیوں کو 5 فیصد ٹیکس ریلیف، 11 تا 15 فیصد والوں کو 10 فیصد، 16 تا 20 فیصد والوں کو 15 فیصد، اور 20 فیصد سے زائد اضافہ کرنے والی کمپنیوں کو 20 فیصد ٹیکس ریلیف دیا جائے۔
عالمی معیار پر پورا اترنے کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری کو بھی سہولت دی جانی چاہیے تاکہ پاکستانی کمپنیاں ترقی یافتہ ممالک کی دوا ساز منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اس وقت تیز رفتار ڈیپریسی ایشن کی سہولت صرف مشینری تک محدود ہے۔ تجویز ہے کہ جو کمپنیاں برآمدی منڈیوں میں داخلے کے لیے پلانٹس کی اپ گریڈیشن میں سرمایہ کاری کریں، انہیں تیز رفتار ڈیپریسی ایشن یا مکمل سرمایہ کاری پر ٹیکس کریڈٹ دیا جائے۔
ایک اور اہم مسئلہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4C کے تحت لاگو ”سپر ٹیکس“ ہے، جو ابتدائی طور پر عارضی قدم کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا لیکن اب یہ مستقل بوجھ بن چکا ہے۔ تجویز ہے کہ دوا ساز برآمدات سے حاصل شدہ آمدن کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
اسی طرح ایسی صنعتیں جو برآمدات کو فروغ دیتی ہیں یا درآمدی اشیاء کا متبادل فراہم کرتی ہیں، انہیں اس ٹیکس سے مکمل استثنیٰ یا خاطر خواہ ریلیف دیا جائے۔ ٹیکس میں ریلیف دے کر سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی صنعتی ترقی اور اختراع کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح پہلے ہی خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ عالمی معیشت میں سرمایہ ان ممالک کا رخ کرتا ہے جہاں مالیاتی نظام مستحکم اور پرکشش ہو۔ اس تناظر میں تجویز ہے کہ مالی سال 2025-26 کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کو 28 فیصد تک کم کیا جائے اور آئندہ پانچ سالوں میں اسے سالانہ 1 فیصد کمی کے ساتھ 25 فیصد تک لایا جائے۔ اس سے نہ صرف علاقائی ہم پلہ ممالک سے ہم آہنگی پیدا ہوگی بلکہ سرمایہ کاروں کو اعتماد بھی ملے گا۔
ایک اور اہم پہلو ”منی ٹیکس کیری فارورڈ“ کا طریقہ کار ہے۔ اس وقت سیکشن 113 کے تحت زائد ادا شدہ ٹیکس کو صرف تین سال کے لیے کیری فارورڈ کیا جا سکتا ہے، جو کہ پہلے پانچ سال تھا۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر نئی صنعتوں، خصوصاً دوا سازی پر پڑا ہے جہاں تحقیق، ترقی اور قانونی منظوریوں میں طویل وقت لگتا ہے۔ تجویز ہے کہ پانچ سالہ مدت بحال کی جائے تاکہ ابتدائی مراحل میں کاروباری دباؤ کم ہو۔پہلے، جب ایڈوانس ٹیکس ادا کر دیا جاتا تھا تو کمپنیوں کو 100 فیصد وِد ہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوتا تھا، مگر 2024 کے مالیاتی قانون کے بعد یہ سہولت 80 فیصد تک محدود کر دی گئی، جس سے کمپنیوں کی نقدی روانی متاثر ہوئی۔ تجویز ہے کہ مکمل استثنیٰ بحال کیا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
او آئی سی سی آئی نے ڈریپ رجسٹرڈ دوا ساز مصنوعات کے لیے سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹنگ کی بحالی، پیکنگ میٹریل اور تشخیصی کٹس کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی بھی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ فاسٹر سسٹم کے تحت سیلز ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر بھی صنعت کے لیے نقدی کے مسائل پیدا کر رہی ہے، جس پر فوری توجہ درکار ہے۔
او آئی سی سی آئی نے مزید تجویز دی ہے کہ درآمد شدہ تیار شدہ دوا ساز اور تشخیصی مصنوعات پر بارہویں شیڈول کے تحت لاگو 3 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ ٹیکس عملی طور پر 4 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جو کہ آٹھویں شیڈول میں دیے گئے 1 فیصد فائنل ٹیکس کے اصول سے متصادم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھٹے شیڈول کے اندراج نمبر 166 کے تحت دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ کو صرف خیراتی ہسپتالوں تک محدود رکھنے کے بجائے سرکاری اداروں، محکموں اور ہسپتالوں تک توسیع دی جائے۔
اس کے علاوہ سینٹرل ریسرچ فنڈ (CRF) کے ڈھانچے اور استعمال پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ برآمدی اہداف اور ریگولیٹری ترقی سے ہم آہنگ تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔ دوا ساز کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سی آر ایف فنڈز کو براہ راست ہائی امپیکٹ تحقیق پر خرچ کر سکیں تاکہ عالمی منڈیوں کے لیے درکار سخت معیارات پر پورا اترا جا سکے۔
اسی طرح ورکرز ویلفیئر فنڈ (2 فیصد) اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (5 فیصد) کا نظام بھی اصلاح طلب ہے۔ تجویز ہے کہ ان فنڈز کو سرکاری اداروں کے بجائے کمپنیوں کو خود ملازمین کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی اجازت دی جائے، تاکہ احتساب اور مؤثریت بڑھائی جا سکے۔
تجویز نہایت سادہ ہے: بااعتماد کمپنیوں کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ حکومت کی نگرانی میں اپنے ملازمین کی صحت، تعلیم اور فلاح و بہبود پر یہ فنڈز براہ راست خرچ کر سکیں۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف امدادی اقدامات کو بہتر طریقے سے ہدف بنایا جا سکے گا بلکہ شفافیت اور جوابدہی میں بھی اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں ملازمین کی اطمینان اور پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔
دوا سازی کی صنعت صرف دوا بنانے کا شعبہ نہیں بلکہ یہ صحت عامہ کی ضمانت، جدت کا محرک، روزگار کی فراہمی اور زرمبادلہ کا ذریعہ ہے۔ ایک مضبوط، برآمدی دوا ساز صنعت پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے۔ مگر اس کے لیے ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو ترقی کی حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ اسے سزا دیں۔
یہ تجاویز کوئی مطالبات نہیں بلکہ ایسی حکمت عملی ہے جو ایک مضبوط اور مسابقتی پاکستان کے قیام کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ کارکردگی پر مبنی، مراعاتی ٹیکس فریم ورک اپنا کر ہم اپنے دوا ساز شعبے کو ترقی کا موقع دے سکتے ہیں، جو نہ صرف برآمدات میں اضافہ کرے گا بلکہ معیشت کو وسعت دے گا، تجارتی خسارے کو کم کرے گا اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنائے گا۔
اب وقت ہے کہ پاکستان دانشمندانہ اور دلیرانہ مالی اصلاحات کی جانب قدم بڑھائے۔ اپنی صنعتوں پر اعتماد کریں، ترقی کو انعام دیں اور اس صلاحیت کو بیدار کریں جو طویل عرصے سے سوئی ہوئی ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری تجویز ہے کہ میں سرمایہ کمپنیوں کو سیلز ٹیکس دوا سازی دیا جائے ٹیکس سے فیصد تک کو فروغ دوا ساز دیا جا کے تحت کیا جا کے لیے جا سکے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔