ایف پی سی سی آئی کا ٹیکس فراڈ پر ایف بی آر کو دیے گئے گرفتاری کے اختیارات مؤخر کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس فراڈ پر گرفتاری کے اختیارات اور 2 لاکھ روپے سے زائد لین دین کے لیے بینکنگ چینلز کے لازمی استعمال پر عملدرآمد کو مؤخر کیا جائے۔
اسلام آباد میں فیڈریشن کے ایک اجلاس میں ملک بھر سے مختلف تجارتی انجمنوں کے نمائندگان شریک ہوئے، جن میں گھی و کوکنگ آئل، فلور ملز ایسوسی ایشن، اسلام آباد و راولپنڈی چیمبرز، کراچی اور لاہور چیمبرز کے آن لائن شرکا، تاجر رہنما، ریئل اسٹیٹ ایجنٹس اور دیگر شامل تھے۔
کاروباری برادری نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگران کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوں گے، اجلاس کے دوران ایک موقع پر ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا، تاہم ایف بی آر کی یقین دہانی کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سیلز ٹیکس رولز میں ترمیم، ریٹیلرز کے کاروباری مراکز کو سیل کرنے کے دائرہ کار میں اضافہ
ایف بی آر کے ممبر آپریشن ان لینڈ ریونیو ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے یقین دہانی کرائی کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 37 اے کے تحت گرفتاری کے اختیارات صرف ان افراد کے خلاف استعمال ہوں گے جو جعلی یا فلائنگ انوائسز کے ذریعے اربوں روپے کے قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ 2 لاکھ رجسٹرڈ اداروں میں سے صرف 60 ہزار سیلز ٹیکس فائلرز ہیں اور ان اختیارات کا استعمال مینوفیکچررز یا تاجروں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہوگا۔
ریئل اسٹیٹ فیڈریشن پاکستان کے صدر سردار طاہر نے بتایا کہ سی ڈی اے چیئرمین نے اسلام آباد میں اسٹامپ ڈیوٹی یکطرفہ طور پر 1 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کر دی ہے، جس سے پراپرٹی خریداروں کے لیے ٹیکس میں کمی کے فوائد ختم ہو گئے۔
مزید پڑھیں: فائنانس بل 26-2025 : ٹیکس فراڈ میں مدد دینے والے اکاؤنٹ ہولڈر کو ’معاونِ جرم‘ سمجھا جائے گا
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے یقین دہانی کرائی کہ یہ معاملہ وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے حکومت سے 37 اے کی شق کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بصورت دیگر سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے جواب دیا کہ فائنانس ایکٹ 2025 پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا ہے اور اس میں ترمیم ممکن نہیں، البتہ اختیارات کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے کاروباری طبقے کو ہر ماہ ملاقات کی پیشکش کی تاکہ مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔
ایف بی آر کے ڈاکٹر حامد عتیق نے وضاحت کی کہ گرفتاری کے اختیارات صرف جعلی انوائسز کے ذریعے 100 ارب روپے کے فراڈ میں ملوث افراد پر لاگو ہوں گے، عام مینوفیکچررز یا تاجروں پر نہیں۔
مزید پڑھیں:ایف بی آر کو ٹیکس فراڈ پر کمپنی سی ای اوز اور ڈائریکٹرز کی گرفتاری کا اختیار مل گیا
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مالی سال کے دوران 2 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی بینک کے ذریعے کرنے کی شرط صرف آئندہ مالی سال 2026-27 میں ریٹرن فائل کرتے وقت زیر غور آئے گی اور صرف آڈٹ کی صورت میں وضاحت مانگی جائے گی۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ یعنی 4.
انہوں نے کہا کہ بجٹ، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہونے کے باوجود عوامی ریلیف کے عناصر سے مزین ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پرائیویٹائزیشن، اداروں کا سائز کم کرنے، اصلاحات اور خسارے پر قابو پانے کے اقدامات کے ذریعے معیشت کو مستحکم اور ترقی کی راہ پر ڈالا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف اسٹامپ ڈیوٹی اسلام آباد ایف پی سی سی آئی بجٹ بلال اظہر کیانی بینکنگ چینلز پراپرٹی ٹیکس فراڈ ریئل اسٹیٹ فیڈریشن سردار طاہر سی ڈی اے شہباز شریف عاطف اکرام شیخ فائنانس ایکٹ 2025 فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری مینوفیکچررز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسٹامپ ڈیوٹی اسلام آباد ایف پی سی سی ا ئی بلال اظہر کیانی بینکنگ چینلز پراپرٹی ٹیکس فراڈ ریئل اسٹیٹ فیڈریشن سردار طاہر سی ڈی اے شہباز شریف عاطف اکرام شیخ فائنانس ایکٹ 2025 فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری مینوفیکچررز ایف پی سی سی ا ئی بلال اظہر کیانی ٹیکس فراڈ انہوں نے کے ذریعے کے لیے ایف بی
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔