ملک میں 17 ہزار سے زائد غیر قانونی این جی اوز ملکی حساس معاملات کیلیے خطرناک قرار
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ملک میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والی 17 ہزار سے زائد این جی اوز کو ملکی حساس معاملات کیلیے خطرہ قرار دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ میں بریفنگ میں بتیا گیا کہ اس وقت ملک میں 18ہزار سے زائد این جی اوز کام کررہی ہیں ان میں سے 1ہزار رجسٹرڈ ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے این جی اوز کے حوالے سے قومی فریم بنائے جانے کی ہدایت کرتے ہوئے غیر رجسٹرڈ این جی اوز کو ملکی حساس معاملات کے لئے خطرہ قرار دے دیا۔
قائمہ کمیٹی کو فلاحی منصوبوں کی تکمیل کے لئے دی گئی ڈیڈ لائن پر عملدرآمد کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اس دوران قائمہ کمیٹی نے فلاحی منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔
کمیٹی تخفیف غربت نے اگلے اجلاس میں گورنر سٹیٹ بینک اور نجی بینکوں کے سربراہان کو طلب کرلیا ۔قائمہ کمیٹی نے جولائی میں مکمل ہونے والے پائلٹ پراجیکٹ کی عدم تکمیل پر اظہار برہمی کیا اورسیکرٹری خزانہ و سیکرٹری صنعت وپیدوار کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وزیر اعظم کے رمضان ریلیف پیکیج پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم ریلیف پیکیج کے تحت 35لاکھ مستحق خاندانوں میں سے 27لاکھ مستحق خاندانوں کو ڈیجیٹل وائلٹس کے ذریعے مدد فراہم کی گئی۔
قائمہ کمیٹی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں گیارہ سو آسامیوں کا خالی ہونے پر اظہار تشویش کیا ۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے عوامی منصوبے میں گیارہ سو آسامیوں کے خالی ہونے سے کام متاثر ہورہا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں 18ہزار سے زائد این جی اوز کام کررہی ہیں اور صرف 1ہزار رجسٹرڈ ہیں۔
قائمہ کمیٹی نے کہا کہ این جی اوز کے حوالے سے قومی فریم بنایا جائے۔ غیر رجسٹرڈ این جی اوز ملکی حساس معاملات کے لئے خطرہ ہوسکتے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملکی حساس معاملات قائمہ کمیٹی نے جی اوز ملک میں
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز