یوم تکبیر تعطیل کے باعث بیچ نمبر5کے بلوں کی مقررہ تاریخ میں توسیع، ترجمان آئیسکو
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
یوم تکبیر تعطیل کے باعث بیچ نمبر5کے بلوں کی مقررہ تاریخ میں توسیع، ترجمان آئیسکو WhatsAppFacebookTwitter 0 27 May, 2025 سب نیوز
اسلام آبا(سب نیوز) 28مئی 2025 یوم تکبیر کے موقع پر سرکاری تعطیل کے باعث آئیسکو انتظامیہ نے بیچ نمبر5جس کی مقررہ تاریخ28مئی2025تھی اس میں ایک دن کی توسیع کر دی ہے اور اب متعلقہ صارفین بجلی بلوں کی ادائیگی اب بغیر کسی پریشانی اوراضافی سرچارج کے29مئی2025 تک کر سکیں گے۔ اس ضمن میں آئیسکو ریجن کے تمام ریونیو دفاتر ، مجاز بنکوں اور پوسٹ آفسز کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کی مسجد اقصی پر اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات اور اسکول حملے کی شدید مذمت پاکستان کی مسجد اقصی پر اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات اور اسکول حملے کی شدید مذمت خیبرپختونخوا کا بجٹ 13جون کو پیش ہوگا، حجم دو ہزار ارب رہنے کا امکان کوہستان کرپشن اسکینڈل، پشاور ہائیکورٹ نے نامزد ملزمان کو گرفتاری سے روک دیا چین نے پاکستان کیلئے ملازمتوں کے دروازے کھول دیئے،جاب فئیر میں 5سو ہنر مند پاکستانی نوجوانوں کو جاب دی جائیگی یوم تکبیردفاع وطن کیلئے 24کروڑ عوام کے جذبے اور عزم کی درخشاں علامت ہے، سینیٹر عرفان صدیقی پی ٹی آئی انتشار، مذاکرات کے مداروں میں چکر کھا رہی ہے ،سینیٹر عرفان صدیقیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔