چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی زیرصدارت مرکزی اجلاس کوہسار بلڈنگ میں ہوا، اجلاس میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اراکین کے علاوہ محکمہ سپارکو، موسمیات اور دیگر محکموں کے ممبران معاونت کیلئے موجود تھے، تاہم ملک بھر سے کہیں بھی چاند کی شہادتیں موصول نہیں ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر سے کہیں بھی ذوالحج کے چاند کی شہادتیں موصول نہیں ہوئیں، یکم ذوالحج 29 مئی جبکہ عیدالاضحیٰ 7 جون کو ہوگی۔ چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبدالخبیرآزاد کی زیرصدارت مرکزی اجلاس کوہسار بلڈنگ میں ہوا، اجلاس میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اراکین کے علاوہ محکمہ سپارکو، موسمیات اور دیگر محکموں کے ممبران معاونت کیلئے موجود تھے۔ دوسری جانب مرکزی اجلاس کے علاوہ کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور سمیت دیگر علاقوں میں زونل کمیٹی کے اجلاس بھی ہوئے، تاہم ملک بھر سے کہیں بھی چاند کی شہادتیں موصول نہیں ہوئیں۔

قبل ازیں محکمہ موسمیات اور سپارکو نے دعویٰ کیا تھا کہ آج شام چاند کی عمر صرف 11 گھنٹے ہوگی، جو فلکیاتی اصولوں کے مطابق رویت کے لیے ناکافی تصور کی جاتی ہے، اسی بنیاد پر ماہرین کا کہنا تھا کہ آج چاند نظر آنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ خیال رہے سپارکو نے پیش گوئی کی تھی کہ یکم ذوالحج 29 مئی کو ہو گئی جو درست ثابت ہوئی۔

دوسری جانب عرب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ انڈونیشیا میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، انڈونیشیا میں ذوالحج کا آغاز 28 مئی بروز بدھ سے ہوگا جبکہ عیدالاضحیٰ 6 جون 2025ء کو منائی جائے گی۔ عرب میڈیا کا کہنا  تھا کہ  برونائی دارالاسلام اور ملائیشیا میں ذوالحج کا چاند نظر نہیں آیا،برونائی دارالاسلام اور ملائیشیا میں عیدالاضحیٰ 7 جون 2025ء کو منائی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مرکزی رویت ہلال کمیٹی چاند نظر چاند کی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف