UrduPoint:
2026-06-03@01:06:16 GMT

امریکہ نے نئے طلبہ کے لیے ویزا عمل کو روک دیا

اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT

امریکہ نے نئے طلبہ کے لیے ویزا عمل کو روک دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 مئی 2025ء) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی طرف سے دستخط کردہ اندرونی مواصلات کے مطابق امریکہ کے غیر ملکی مشنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ طلبہ اور ایکسچینج وزیٹر ویزا کے درخواست دہندگان کے لیے نئے اپوائنٹمنٹ کے شیڈول کو روک دیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی غیر ملکی طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کو وسیع تر کرنے کی کوشش ہے اور نئے طلبہ کے ویزا کے لیے معینہ وقت فراہم کرنے سے روکنے کا یہ حکم اسی تناظر میں دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے سب سے پہلے پولیٹیکو نامی میگزین نے اطلاع دی، جس کے مطابق وزیر خارجہ روبیو نے کہا کہ محکمہ طلبہ اور ایکسچینج وزیٹر درخواست دہندگان کے سوشل میڈیا اکاؤٹنس کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں تازہ رہنما خطوط جاری کرنے کی کوشش میں ہے۔

(جاری ہے)

اطلاعات کے مطابق سفارتخانوں کے قونصلر سیکشنز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس قسم کے ویزا اپوائنٹمنٹس کا شیڈول بند کر دیں۔

ہارورڈ میں غیر ملکی طلبہ کے داخلوں پر پابندی، چین کا رد عمل

روئٹرز نیوز ایجنسی نے اس حوالے سے کیبل کے متن کو نقل کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ "محکمہ طلبہ اور ایکسچینج وزیٹر (ایف، ایم، جے) ویزا کے درخواست دہندگان کی اسکریننگ اور جانچ پڑتال کے لیے موجودہ آپریشنز اور طریقہ کار کا جائزہ لے رہا ہے، اور اس جائزے کی بنیاد پر ایسے تمام درخواست دہندگان کے سوشل میڈیا کی جانچ پڑتال کی توسیع کے بارے میں رہنمائی جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

''

ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسے طلبہ، یا گرین کارڈز رکھنے والے کارکن جو فلسطین کی حمایت کرتے ہیں، وہ ملک بدر کیے جانے کے مستحق ہیں۔

ٹفٹس یونیورسٹی کی طالبہ نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے بارے میں اپنے شعبے کے ردعمل پر تنقید کرنے والا ایک مشترکہ مضمون لکھا تھا، اس کی وجہ سے وہ گزشتہ چھ ہفتوں سے لوزیانا کے ایک امیگریشن حراستی مرکز میں قید ہیں۔

پچھلے ہفتے ہارورڈ یونیورسٹی نے غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے وائٹ ہاؤس کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر ایک جج نے انتظامیہ کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔

ہارورڈ نے اس اقدام کو امریکی آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے ہارورڈ میں غیر ملکی طلبہ کے داخلے پر پابندی لگا دی

ہارورڈ کے طلبہ کا ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف مارچ

ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبہ نے منگل کے روز اس وقت ایک ریلی نکالی جب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے ساتھ باقی تمام مالی معاہدوں کو منسوخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے یونیورسٹی کی خودمختاری کو کم کرنے کی اپنی کوششوں کو دوگنا کرتے ہوئے، وفاقی ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ ہارورڈ سے متعلق 100 ملین کے معاہدوں میں کمی کریں۔

ٹرمپ انتظامیہ: ہارورڈ یونیورسٹی کو نئی وفاقی گرانٹس بند

سیکڑوں طلبہ یونیورسٹی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ ادارے نے نصاب، داخلوں اور تحقیق پر کنٹرول ترک کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

احتجاجی مارچ کے دوران طلبہ نے "جو آج کلاس میں ہے، انہیں رہنے دو" کے نعرے لگائے۔

ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

انتظامیہ کی جانب سے بقیہ معاہدوں کے خاتمے سے حکومت اور یونیورسٹی کے درمیان کاروباری تعلقات ختم ہو جائیں گے۔ امریکی حکومت پہلے ہی ہارورڈ یونیورسٹی کے لیے وفاقی تحقیقی گرانٹس میں 2.

6 بلین ڈالر سے زیادہ کی رقم منسوخ کر چکی ہے۔

ادارت: جاوید اختر

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہارورڈ یونیورسٹی درخواست دہندگان ٹرمپ انتظامیہ غیر ملکی طلبہ یونیورسٹی کے انتظامیہ کے جانچ پڑتال طلبہ کے کرنے کی کے خلاف گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ