موریطانیہ طیارہ حادثے میں 200 حاجیوں کی شہادت کی خبر ، حقیقت سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
موریطانیہ کے طیارے کے سمندر میں گر کر تباہ ہونے اور 200 سے زائد حاجیوں کی شہادت کی اطلاع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی۔ تاہم مقامی حکومت نے واقعے کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹا قرار دیدیا۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر پوسٹ کے ذریعے یہ اطلاع دی گئی کہ افریقی ملک موریطانیہ کا ایک طیارہ سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 210 حاجی شہید ہوگئے۔
سوشل میڈیا پر طیارہ حادثے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی جس کے بعد موریطانیہ حکومت کو اس پر وضاحت جاری کرنا پڑی۔
موریطانیہ حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بحیرہ احمر کے ساحل پر موریطانیہ کے زائرین کے طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی افواہیں جھوٹی ہیں۔
موریطانیہ کے اسلامی امور کی وزارت میں حج کے ڈائریکٹر الولی طحہ نے اس دعوے کی تردید کی اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تمام موریطانیہ کے عازمین محفوظ ہیں اور بغیر کسی واقعے کے مقدس سرزمین پر پہنچ چکے ہیں۔
اسی طرح موریطانیہ ایئرلائنز نے تصدیق کی کہ تمام عازمین حج کو بحفاظت اور محفوظ طریقے سے سعودی عرب پہنچا دیا گیا، طے شدہ پروازوں میں سے کسی کے بھی حادثے کا شکار ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
کمپنی نے واضح کیا کہ اس نے اس سال حج سیزن کیلئے 3 آؤٹ باؤنڈ پروازیں چلائی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: موریطانیہ کے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔