اپنے بیان میں قائمقام گورنر بلوچستان خالق اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کے اپنے برادر ہمسایہ ملک ایران کیساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے حالیہ دورہ ایران کے بہت جلد مثبت نتائج برآمد ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے قائمقام گورنر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ ہر قسم کی معاشی و معاشرتی ترقی و خوشحالی کیلئے پائیدار امن اولین شرط ہے۔ حالیہ حکومتی اقدامات سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک اور صوبے میں دیرپا امن کے قیام میں گرانقدر خدمات اور قربانیاں دی ہیں۔ افواج پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی اور تخریب کاری کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔ اس سلسلے میں عوام افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور رہیں گے۔ بلوچستان کے قائمقام گورنر نے کہا کہ پاکستان کے اپنے برادر ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے حالیہ دورہ ایران کے بہت جلد مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان پرامن اور شہری مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے ایٹمی پروگرام کے ایران کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ اب وقت آپہنچا ہے کہ مسلم ممالک اپنے ملک اور عوام کی حقیقی ترقی اور خوشحالی کیلئے جرات مندانہ فیصلے کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کے نے کہا کہ ایران کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار