اونٹ کے منہ میں زیرہ مثال تو ہر ایک نے سنی ہی ہوگی، تاہم اب قربانی کے لیے لائے گئے اونٹ نے شہری کا ہاتھ ہی چبا ڈالا۔
مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کراچی کے علاقے دہلی کالونی میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص اونٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا ہوتا ہے کہ اچانک اونٹ اس کا ہاتھ منہ میں دبوچ لیتا ہے۔شہری کے چیخنے اور مختلف تدبیروں کے باوجود بھی اونٹ اس کا ہاتھ چھوڑنے سے انکاری رہتا ہے تاہم کچھ دیر بعد اونٹ اپنے آپ ہی مذکورہ شہری کا ہاتھ چھوڑ دیتا ہے۔
گو کہ شہری کا زیادہ نقصان تو نہیں ہوا تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو سے منچلوں کو سبق مل گیا کہ قربانی کے جانوروں کو تنگ نہ کیا جائے ورنہ انجام اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔