بھارت کا جنگی جنون جنوبی ایشیاء کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، مسعود خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
سابق صدر آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے تنازعہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ اسلام ٹائمز آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کا جنگی جنون جنوبی ایشیاء کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ ذرائع کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالیہ کشیدگی نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کوئی بھی روایتی جنگ، جوہری تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے کوئی خوش فہمی رکھنا خطرناک ہو گا کیونکہ بھارتی وزِیراعظم نریندر مودی کھلے عام یہ اعلان کر چکے ہیں کہ بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جائے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر حملہ کیا جائے گا۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے تنازعہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ لیکن بھارت نے کبھی سنجیدگی سے مذاکرات کی پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان پر دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں لیکن ان کے ثبوت کبھی فراہم نہیں کیے گئے، جبکہ پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ بھارت نہ صرف اعلانیہ بلکہ خفیہ طور پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، خاص طور پر بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردی ہو رہی ہے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی جارحیت پر پاکستان نے موثر اور فیصلہ کن جواب دے کر بھارتی عزائم کو ناکام بنا دیا۔ جس کے بعد بھارت کو سفارتی دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی قیادت کی جانب سے ”نیو نارمل” کے تصور پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بھارت مستقبل میں ہر واقعے کا الزام پاکستان پر لگا کر حملے کو معمول بنا دے گا تو خطے میں امن قائم نہیں رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج نے بھارت کی عسکری برتری کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے اور وہ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔
امریکی ثالثی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات اور ثالثی کی پیشکش پاکستان کے لیے ایک موقع ہے مگر بھارت اس سے خائف دکھائی دیتا ہے اور مسلسل بہانے بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک حالیہ رپورٹ میں بھارت پر کینیڈا، امریکہ اور پاکستان میں ایجنٹوں کے ذریعے قتل و غارت گری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جو اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سردار مسعود خان نے بھارت میں مذہبی تعصب اور مسلم مخالف پالیسیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر ریاستی سرپرستی میں تعصب اور امتیاز برتا جا رہا ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ بھارتی مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کو محض اس بنیاد پر ”پاکستانی” کہہ کر دشمن قرار دیا جاتا ہے اور یہی رویہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ بھی اختیار کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کہا کہ بھارت کہ پاکستان کی جانب سے کے ذریعے رہا ہے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔