نواز شریف کی سرکاری اشتہارات میں تصاویر پر حکومت سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کی تصاویر والے اشتہارات پر حکومت سے جواب طلب کر لیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے مریم نواز کی جانب سے نواز شریف کی تصاویر کے ساتھ سرکاری اشتہارات جاری کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی، عدالت نے چیف سیکرٹری اور دیگر فریقین کی جانب سے جواب جمع نہ کروانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ عزت کرتے ہیں آپ عدالتوں کی؟ جواب جمع نہیں کروا رہے؟ آپ عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، عدالت نے واضح کیا کہ اگر آئندہ سماعت پر جواب داخل نہ کروایا گیا تو درخواستوں کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو فوری طور پر عدالت میں طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ بتایا جائے کہ سرکاری فریقین نے عدالتی حکم کے باوجود جواب کیوں جمع نہیں کروایا؟۔درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ پیسوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کی تصاویر والے اشتہارات جاری کئے گئے جو کہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے استدعا کی کہ ایسے اشتہارات کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر پابندی عائد کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نواز شریف کی عدالت نے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔