اپنی خودمختاری، وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، سید محمد نقی
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پاکستان نے صرف پانچ گھنٹوں میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور دنیا کو دکھا دیا کہ یہ قوم اپنے دفاع میں کسی سے پیچھے نہیں، میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی بہادر قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے پاکستان کی عزت اور وقار کو بلند کیا۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ یومِ تکبیر کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید محمد نقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِاعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دور اندیشی اور بے مثال جرات نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا خواب دکھایا اور اس کے لیے عملی بنیاد فراہم کی، جس کو عظیم سائنسدان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حقیقت بنایا، ان کی محنت اور عزم کے باعث پاکستان آج سے 27 سال قبل ایک ناقابلِ تسخیر ایٹمی قوت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا، یومِ تکبیر صرف فخر کا دن نہیں بلکہ ہماری قوم کے غیر متزلزل عزم اور یکجہتی کی علامت ہے کہ ہم اپنی خودمختاری، وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پاکستان نے صرف پانچ گھنٹوں میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور دنیا کو دکھا دیا کہ یہ قوم اپنے دفاع میں کسی سے پیچھے نہیں، میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی بہادر قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے پاکستان کی عزت اور وقار کو بلند کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔