کراچی: نجی اسکول میں خواتین اساتذہ پر تشدد، ملزم عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
—’جیو نیوز‘ گریب
جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کراچی کے نجی اسکول میں خواتین اساتذہ پر تشدد کے کیس میں گرفتار ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر چالان طلب کر لیا۔
عدالت نے ملزم سے کہا کہ آپ نے ٹیچر پر ہاتھ اٹھا کر سب کو شرمندہ کر دیا ہے، آپ کو اساتذہ کی اہمیت اور ان کی عزت کا علم ہے؟ اگر اساتذہ طلبہ کو کچھ کہتے بھی ہیں تو ان کی بہتری کےلیے ہوتا ہے۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ خواتین اساتذہ پر تشدد کیس میں فرار ملزم ہیڈ کانسٹیبل ہے۔
یہ بھی پڑھیے کراچی: جمشید کوارٹر میں نجی اسکول میں خاتون ٹیچر پر تشددتفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اہلکار کو معطل کرکے انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے، ملزم نے خواتین اساتذہ پر تشدد کیا۔
جمشید کوارٹر پولیس نے واقعے میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے جمشید کوارٹر میں نجی اسکول میں طالبہ کو معمولی سزا دینے پر خاتون ٹیچر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
نجی اسکول میں خاتون ٹیچر پر تشدد کے خلاف طالبہ، اس کی والدہ، والد اور ماموں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ٹیچر کے مطابق طالبہ کا ماموں پستول دکھا کر خود کو ایس ایچ او کلاکوٹ ظاہر کر کے اسکول میں داخل ہوا۔
خاتون ٹیچر کا کہنا تھا کہ طالبہ کے ماموں نے دیگر خواتین اساتذہ سے بھی گالم گلوچ کی اور ان پر تشدد کیا۔
خاتون ٹیچر پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خواتین اساتذہ پر تشدد نجی اسکول میں خاتون ٹیچر پر تشدد کی ٹیچر پر
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں