آواز سے زیادہ تیز رفتار طیارے سے متعلق تجربہ کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
امریکا کے ایک اسٹارٹ اپ کی جانب سے کامیاب آزمائش کے بعد سپر سونک سفر اب جلد ہی حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے۔ عملی میدان میں آنے کے بعد سپر سونک طیارہ مسافروں کو 55 منٹ میں نیو یارک سے پیرس پہنچا سکے گا۔
ٹیکساس کی مقامی کمپنی وینس ایرو اسپیس نے روٹیٹنگ ڈیٹونیشن راکٹ انجن (آر ڈی آر ای) کا دنیا کا سب سے پہلا ٹیسٹ مکمل کیا ہے۔ یہ جدید پروپلژن سسٹم تھرسٹ پیدا کرنے کے لیے ایندھن کو جلانے کے بجائے اسپننگ ایکسپلوژنز کا استعمال کرتا ہے۔
کمپنی نے یہ آزمائش نیو میکسیکو میں قائم اسپیس پورٹ امیریکا پر 14 مئی بروز بدھ کو کی۔ آزمائش میں ایک چھوٹے راکٹ میں نئے انجن کو نصب کیا گیا تھا۔
وینس کی سی ای او سارہ ڈگلبی کا کہنا تھا کہ یہ وہ لمحہ ہے جس کے لیے کمپنی پانچ برس سے کام کر رہی تھی۔
کمپنی اس انجن کو اپنے آئندہ آنے والے سپر سونک جیٹ اسٹار گیزر میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا ماک 4 (آواز کی رفتار سے چار گُنا زیادہ رفتار) کی رفتار تک پرواز کرنا متوقع ہے۔
اگر اس 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے اس طیارے کو کمرشل سفر کے لیے منظوری مل گئی تو نیو یارک سے پیرس کا 5833 کلو میٹر کا سفر ایک گھنٹے سے کم وقت میں کیا جا سکے گا۔
وینس ایرو اسپیس اپنا طیارہ 2030 کی دہائی کے ابتداء میں لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی ایک پرواز میں 12 مسافر سفر کر سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔