کوئٹہ، مزدوروں پر تشدد کیخلاف پریس کلب کے سامنے مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ غریب محنت کشوں پر تشدد قابل مذمت ہے۔ کمزور اور غریب طبقے پر ہاتھ اٹھانا بلوچستان کے روایات کیخلاف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے زیر اہتمام کوئٹہ صفا پراجیکٹ کے محنت کشوں پر تشدد اور انہیں زخمی کرنے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور واقعے کے خلاف نعرئے بازی کر رہے تھے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ غریب محنت کشوں پر تشدد قابل مذمت ہے۔ کمزور اور غریب طبقے پر ہاتھ اٹھانا بلوچستان کے روایات کے خلاف ہے۔ بے روز گار نوجوان انتہائی کم اجرت میں کوئٹہ کو صاف کرنے کا مشکل کام انجام دے اور کوئٹہ کے باسیوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نہ انہیں معقول اجرت مل رہی ہے، نہ ہی ملازمت کا تحفظ حاصل ہے۔ دوسری جانب ایسے واقعات سے نہ صرف محنت کش اپنے آپ کو غیرمحفوظ سمجھتے ہیں، بلکہ اس واقعے سے کوئٹہ کے محنت کشوں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی اور محنت کشوں کو دوران کام تحفظ فراہم کیا جائے۔ واقعے میں زخمی محنت کشوں کا حکومت یا ٹھیکیدار کی جانب سے علاج کرایا جائے اور تندرست ہوکر کام پر واپس آنے تک ان کی تنخواہیں جاری رکھی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔