بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
فوٹو اسکرین گریب
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں فوجی افسران سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ بھارتی جارحیت کا صرف جواب نہیں دیا بلکہ بازی ہی پلٹ دی، بھارت کو میدانِ جنگ اور سفارتی محاذ دونوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کی آڑ میں جارحیت کی کوشش کی، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا صرف جواب نہیں دیا، بازی بھی پلٹ دی، آرمی چیف نےثابت کیا کہ وہ فیلڈ مارشل کے رینک کے حقدار ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج نے ہمیشہ شاندار خدمات سر انجام دیں، دوست ملکوں سے آئے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہیں، آپ کی یہاں موجودگی ہمارے بہترین تعلقات کی عکاسی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج ہماری خود مختاری اور سالمیت کی محافظ ہیں، بھارت کو میدان جنگ اور سفارتی محاذوں پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، ایئر چیف مارشل ظہیر بابر نے بھارتی طیارے گرا کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو ثابت کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا جھوٹا الزام پاکستان پر لگایا، پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا
شہباز شریف نے کہا کہ مسلح افواج نے تمام امتحانوں کے لیے بہترین خدمات انجام دیں، ہماری مسلح افواج نے بہترین خدمات سر انجام دیں، ایئر فورس نے تاریخی کارنامہ سر انجام دیا،7 ہائی ویلیو اہداف کو نشانہ بنایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث تاریخی کامیابی ملی، حکومت اور عوام اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہیں، اللّٰہ نے ہمیں شاندار فتح سے نوازا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت نے جارحیت میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، آئندہ بھی کوئی مہم جوئی ہوئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے، پاکستان کو درپیش خطرات صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں، آج عام محاذ کے بجائے مختلف جہتوں میں صلاحیتوں کا امتحان ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب معاہدے سے معیشت کو استحکام ملا، معاشی استحکام کے لیے بنیادی سطح پر اصلاحات کی ضرورت ہے، معاشی بہتری سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئی ہے، مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈجیٹ تک آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے شہباز شریف مسلح افواج بھارت نے بھارت کو
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔