UrduPoint:
2026-06-03@04:22:02 GMT

حکومت کا عوام کیلئے عید کا تحفہ

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

حکومت کا عوام کیلئے عید کا تحفہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2025ء) حکومت کا عوام کیلئے عید کا تحفہ، پٹرول مہنگا کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود حکومت کی جانب سے عوام کو معمولی سا بھی ریلیف نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے پٹرول مزید مہنگا کر دیا۔ پٹرول کی فی لیٹر قیمت 1 روپے اضافے سے 253 مقرر کر دی گئی، جو 15 جون تک نافذ العمل رہے گی۔

حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ذرائع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ یکم جون سے حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں انتہائی معمولی کمی کر سکتی ہے، جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق یکم جون سے پٹرول کی قیمت میں 60 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قمت میں 28 پیسے فی لیٹر کی کمی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہے۔ یوں حکومت نے پٹرول سستا کرنے کے بجائے مزید مہنگا کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 5 سال کی کم ترین سطح پر آ چکی ہیں، تاہم اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اس کا ریلیف عوام کو منتقل نہیں کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں اضافہ کیے جانے کا امکان ہے۔

حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی کو ہوشربا 100 روپے فی لیٹر مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس بھی عائد ہو سکتا ہے۔ حکومت آئندہ مالی سال کے دوران صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام کی جیبوں سے 1400 ارب روپے نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان اقدامات کی صورت میں عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے باوجود عوام کو کسی قسم کا ریلیف ملنے کا امکان کم ہے۔ جبکہ پٹرولیم مصنوعات سستی نہ ہونے سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عالمی مارکیٹ میں تیل حکومت کی جانب سے کے باوجود کا امکان فی لیٹر کی قیمت ڈیزل کی کیا گیا

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان