طویل اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کی بندش ظلم کی انتہا ہے، حاجی حنیف طیب
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
چیئرمین نظام مصطفیٰ پارٹی نے حکومت اور متعلقہ شعبوں سے اپیل کی عوام کی بدعاؤں سے بچیں، شدید گرمی میں بدترین اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کے بحران پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین نظام مصطفیٰ پارٹی سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے کہا کہ طویل اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کی بندش ظلم کی انتہا ہے جن علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی تھی اب وہاں 14-16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، گھروں میں موجود خواتین، بچے، بزرگ اور بیمار افراد کا جینا مشکل ہوگیا ہے، رات کے وقت بھی شہر کا بڑا حصہ اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے اس کے باوجود بجلی پیدا کرنے والے ادارے اضافی بجلی کے بل بھیج کر شرم محسوس نہیں کرتے۔
حاجی حنیف طیب نے کہا کہ پانی بجلی کے خلاف آئے دن احتجاج کیا جارہا ہوتا ہے، انتظامیہ اور کے الیکٹرک کے خلاف عوام شدید ردعمل کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے حکومت اور متعلقہ شعبوں سے اپیل کی عوام کی بدعاؤں سے بچیں، شدید گرمی میں بدترین اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کے بحران پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حنیف طیب
پڑھیں:
حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔
انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔
@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachiانہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟
اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔
مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم