گرجا گھروں میں دعائیہ تقریبات، پنجاب پولیس ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
سٹی42: لاہور سمیت پنجاب بھر کے گرجا گھروں میں مسیحی عباداتی دعائیہ پروگرامز جاری ہیں جس کے پیش نظر پنجاب پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت کی ہے کہ گرجا گھروں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
اہم ہدایات میں سپروائزری افسران خود سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ، حساس گرجا گھروں پر اضافی نفری اور سنائپرز تعینات،ڈولفن سکواڈ، پی آر یو اور ایلیٹ فورسز کو مؤثر پٹرولنگ کے لیے متحرک اور تعینات اہلکار مکمل الرٹ اور شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایات شامل ہیں۔
خوفناک زلزلہ نے عمارتیں ہلا کر رکھ دیں
آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خدشے سے نمٹنے کے لیے پولیس ہمہ وقت تیار ہے۔دعائیہ تقریبات میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی ادارے مکمل مستعد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 گرجا گھروں
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔