کراچی کے مختلف علاقوں میں رات سے اب تک چوتھی بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔02 جون 2025)شہر قائدکراچی کے مختلف علاقوں میں رات سے اب تک چوتھی بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے،شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا،زلزلے کے جھٹکے ملیر، لانڈھی، قائدآباد میں محسوس کئے گئے،زلزلے کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔اس کے علاوہ مساجد میں اذانیں بھی دی گئی ہیں۔
گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور علاقے میں آسمان میں چرند و پرندوں کا شور سنائی دیا۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق لانڈھی اور ملیر میں زلزلے کے جھٹکے کی شدت 3.2 تھی۔زلزلے کا مرکز قائدآباد کے قریب تھا اور اس کی زیر زمین گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق کراچی میں رات ایک بج کر 6 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔
(جاری ہے)
زلزلے کی شدت 3.2 ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کا مرکز گڈاپ ٹاو¿ن کے قریب تھا، زلزلے کی گہرائی 12 کلو میٹر تھی۔اہل علاقہ کا کہنا تھا زلزلے کے جھٹکے صبح تقریباً ساڑھے 10 بجے کے قریب محسوس ہوئے۔کراچی میں اتوار کی شام 5 بج کر 33 منٹ پر 3 اعشاریہ 6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔زلزلے سے فی الحال کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق لانڈھی اور ملیر میں زلزلے کے جھٹکے کی شدت 3.2 تھی، زلزلے کا مرکز قائدآباد کے قریب تھا اور اس کی زیر زمین گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے 10 بج کر 29 منٹ پر رپورٹ ہوئے۔قبل ازیں بھی رات گئے پہلا جھٹکا 1 بج کر 12 منٹ کے قریب محسوس کیا گیا، جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں 30-1 بجے دو مزید زوردار جھٹکے آئے۔زلزلے کے جھٹکے اتنے زوردار تھے کہ شہری اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور اذانوں کے ساتھ اللہ اکبر، توبہ اور استغفار کے ورد میں مشغول ہو گئے۔مختلف علاقوں میں مساجد سے اذانیں دی گئیں، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی ہے اور خوف کے مارے گھر جانے کو تیار نہیں ہیں۔محکمہ موسمیات اور زلزلہ پیما مرکز نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ زلزلہ معمولی نوعیت کا تھا تاہم اس کے باوجود شہریوں میں تشویش اور دہشت کا سامنا رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق مختلف علاقوں میں کے قریب
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔