’’سیلاب متاثرین کو 21 لاکھ مفت گھر دینے، خواتین کو ہر سال پنک اسکوٹی دینے کے اعلانات‘‘
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کو 21 لاکھ گھر بنا کر مفت فراہم کرنے اور خواتین کو ہر سال مفت پنک اسکوٹی دینے کے اعلانات کیے ہیں۔
سندھ کے وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ تین سال قبل آنے والے بدترین سیلاب میں تقریباً 21 لاکھ گھر تباہ ہوئے تھے۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام سیلات متاثرین کو مفت گھر بنا کر دینے کا فیصلہ کیا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے۔ پی پی کیونکہ خواتین کو با اختیار بنانے پر یقین رکھتی ہے، اس لیے ان گھروں کی ملکیت خواتین کے نام پر ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو مزید خودمختار بنانے کے لیے انہیں پنک ای وی اسکوٹیز دیں۔ مزید 8 ہزار خواتین کی جانب سے ای وی اسکوٹی کے لیے درخواستیں آئی ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر سال خواتین کو مفت پنک اسکوٹی دیں گے۔
صوبائی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ ای وی بائیکس کی پرکیورمنٹ کا آغاز کر دیا گیا ہے اور یہ بھی بہت جلد آ جائیں گی۔ جن خواتین کے پاس لائسنس ہیں، انہیں پہلے بائیک ملے گی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سکھر، کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ، بینظیر آباد، میرپورخاص میں ٹریننگ سینٹر شروع ہونگے، جہاں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو مفت ٹریننگ دی جائے گی۔
مزیدپڑھیں:پاکستان میں مہنگائی بڑھ گئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: خواتین کو
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔