ترقیات کے بنیادی مسائل سے توجہ بھٹکانا بی جے پی کی پہچان ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ملکارجن کھڑگے نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کریں اور ہر ممکن طریقے سے تعاون کا ہاتھ بڑھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے آسام اور شمال مشرق کی کچھ دیگر ریاستوں میں سیلاب و لینڈ سلائڈنگ سے پیدا مشکل حالات پر اپنی فکر کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ترقیات کے بنیادی ایشوز سے جذباتی اور پولرائزیشن والے ایشوز کی طرف توجہ بھٹکانا بی جے پی کی سیاست کی شناخت بن چکی ہے۔ دراصل آسام میں سیلاب کی حالت انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے۔ ریاست کی 10 اہم ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں، جبکہ 15 سے زائد اضلاع میں تقریباً 4 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ شمال مشرق تباہ کن سیلاب، لینڈ سلائڈ اور شدید بارش سے نبرد آزما ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسام، اروناچل پردیش، منی پور، سکم اور میگھالیہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں شامل ہے، جہاں کئی لوگوں کی جان چلی گئی ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہیں۔ ملکارجن کھڑگے نے کانگریس لیڈران و کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ بحران زدہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کریں اور ہر ممکن طریقے سے تعاون کا ہاتھ بڑھائیں۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں ملکارجن کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ 2016ء میں بی جے پی نے سیلاب سے پاک آسام بنانے کا وعدہ کیا تھا، 2022ء میں وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ دعویٰ دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد اسمارٹ سٹی گواہاٹی کے مناظر کو دیکھ کر یاد آتا ہے کہ کس طرح نریندر مودی اور ان کی "ڈبل انجن حکومت" نے آسام کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کو سیلاب کی تیاریوں کے لئے شمال مشرق کی سبھی ریاستوں، خصوصاً آسام کو زیادہ امدادی رقم جاری کرنی چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملکارجن کھڑگے انہوں نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔