آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ کی تاریخوں اور وینیوز کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخوں اور وینیوز کا اعلان کر دیا گیا۔
بھارت اورسری لنکا ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔ ویمنز ورلڈ کپ 30 ستمبر سے دو نومبر تک بھارت اور سری لنکا کے پانچ مقامات پر ہوگا۔ بھارت میں بنگلورو،اندور، گوہاٹی، وشاکھا پٹنم اور سری لنکا میں کولمبو میچز کی میزبانی کریں گے۔
پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں ہوں گے اور پاکستان کے سیمی فائنل اور فائنل میں پہنچنے کی صورت میں میچز کولمبو میں ہوں گے ۔ایونٹ کا پہلا سیمی فائنل 29 اکتوبر کو گوہاٹی یا کولمبو میں شیڈول ہے جبکہ دوسرا سیمی فائنل 30 اکتوبر کو بنگلورو میں ہوگا۔فائنل 2 نومبر کو بنگلورو یا کولمبو میں کھیلا جائے گا۔
ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ میں 8 ٹیمیں بھارت، دفاعی چیمپئن آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقا، نیوزی لینڈ، سری لنکا، بنگلا دیش اور پاکستان شامل ہیں۔سری لنکا کو میزبان بنانے کا فیصلہ پاکستان ٹیم کی ورلڈکپ میں کوالیفائی کرنے کے بعد کیا گیا۔چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستان آنے سے بھارتی انکار کے بعد پاکستان نے بھی بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ویمنز کرکٹ ورلڈ سری لنکا ورلڈ کپ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔