کوئٹہ، "مظلوم فلسطین کی حمایت میں امام خمینیؒ کا کردار" کے عنوان سے کانفرنس منعقد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے امام خمینیؒ کی بصیرت، عالمی سیاسی فہم اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ بانی انقلاب اسلامی، رہبر کبیر حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی 36ویں برسی کی مناسبت سے مدرسہ خاتم النبیینؐ کوئٹہ میں "مظلوم فلسطین کی حمایت میں امام خمینیؒ کا کردار" کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں علماء اور سماجی، مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ تقریب کا آغاز قرآن خوانی سے کیا گیا، جسے امام خمینیؒ اور شہدائے فلسطین کی یاد میں منعقد کیا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ملی یکجہتی کونسل بلوچستان و امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ امام خمینیؒ کا نام مظلوموں کے دفاع، استقامت اور اسلامی غیرت کی علامت ہے۔ آپ نے انقلاب اسلامی کے ذریعے نہ صرف ایران کو بیدار کیا بلکہ پوری دنیا کے مظلوموں خصوصاً فلسطینی عوام کے لیے آواز بلند کی۔ ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران، کوئٹہ سید ابو الحسن میری نے کہا کہ امام خمینیؒ نے انقلاب سے قبل ہی 1963 میں فلسطین کی تحریک کی حمایت کی۔ آپ نے فلسطینی عوام کو صبر، جہاد اور استقامت کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے اسرائیل اور بھارت کے گٹھ جوڑ کو امت مسلمہ کے لیے خطرناک سازش قرار دیا۔
مرکزی سیکریٹری نشر و اشاعت، مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ امام خمینیؒ نے قرآن کے سیاسی و فکری تصورات کو عملی میدان میں نافذ کیا۔ آپ نے عالم اسلام کو عالمی استعمار کے خلاف قیام کا پیغام دیا، اور "یوم القدس" کا اعلان کر کے فلسطین کو عالمی اسلامی مسئلہ بنا دیا۔ کانفرنس کے دیگر مقررین میں نائب صدر، ایم ڈبلیو ایم بلوچستان علامہ شیخ ولایت حسین جعفری، رہنما جماعت اسلامی بلوچستان مولانا محمد عارف دمڑ، خطیب مسجد صاحب الزمانؑ، کوئٹہ مولانا چمن علی افضلی، سید میر حسین حسینی، صوبائی جنرل سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم علامہ سہیل اکبر شیرازی و دیگر شامل تھے۔ تمام مقررین نے امام خمینیؒ کی بصیرت، عالمی سیاسی فہم اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ امام خمینیؒ کا پیغام آج بھی ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، اور فلسطین کی آزادی امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ امام خمینی مظلوم فلسطین فلسطین کی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔