پی سی بی کا بڑا فیصلہ:اسلام آباد کی تمام کرکٹ ایسوسی ایشنز تحلیل، تمام عہدیداران فارغ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسلام آباد کی کرکٹ سیاست میں ہلچل مچا دینے والا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اسلام آباد کی تمام زونل اور ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کے انتخابات کالعدم قرار دے دیے ہیں۔ پی سی بی نے یہ قدم مبینہ بے ضابطگیوں اور شکایات کی بنیاد پر اْٹھایا ہے۔اس فیصلے کے تحت اسلام آباد ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر شکیل شیخ کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ صرف شکیل شیخ ہی نہیں بلکہ اسلام آباد کی تمام زونل اور ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کے تمام عہدیداران کو بھی ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔پی سی بی نے واضح ہدایت جاری کی ہے کہ تمام فارغ کیے گئے منتخب عہدیداران فوری طور پر اپنے دفاتر سے دستبردار ہو جائیں اور کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ترجمان پی سی بی کے مطابق اسلام آباد ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کا حالیہ انتخاب بھی کالعدم قرار دیا گیا ہے، اور بورڈ اب از سر نو شفاف انتخابات کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دے گا۔ذرائع کے مطابق بورڈ کو متعدد شکایات موصول ہو رہی تھیں، جن میں انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور اقربا پروری کے الزامات شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ریجنل کرکٹ ایسوسی اسلام ا باد کی پی سی بی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔