اسلام آباد کے علاقے جی-13 میں گزشتہ روز نامعلوم شخص نے ایک گھر میں گھس کر 17 سالہ لڑکی پر فائرنگ کی، جس سے وہ شدید زخمی ہوئی اور بعدازاں زندگی کی بازی ہار گئی۔

اسلام آباد پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم ابھی تک ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اسلام آباد پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق قتل کا واقعہ گزشتہ روز شام 5 بجے کے قریب پیش آیا۔ ایف آئی آر میں مقتولہ کی شناخت ثنا یوسف کے نام سے ہوئی ہے۔

‘ملزم گھر میں داخل ہوا، بیٹی پر فائرنگ کر دی’

ایف آئی آر میں مقتولہ کی والدہ فرزانہ یوسف نے پولیس کو بتایا ہے کہ واقعے کے وقت ان کے شوہر کسی کام سے باہر گئے تھے اور گھر میں موجود نہیں تھے، جبکہ ان کا بیٹا آبائی گاؤں چترال گیا ہوا تھا۔ اس وقت ثنا یوسف کے علاوہ ان کی ماں اور نند گھر میں تھیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق نامعلوم شخص گھر میں داخل ہوا اور سیڑھیوں سے اوپر کے پورشن میں جاکر ان کی بیٹی کو ان کے کمرے میں نشانہ بنایا۔ ‘میری بیٹی پر نامعلوم شخص نے پستول سے 2 گولیاں ماریں، جو سینے میں لگیں۔’

Famous influencer from Chitral, Sana Yousaf, shot dead in Islamabad

Sana Yousaf was reportedly shot and killed by an unidentified assailant who entered the house of her relatives in Islamabad’s G-13 sector and fled the scene after the attack.

#MagpieNews #SanaYousaf #Influencer pic.twitter.com/74aZAUpju8

— Magpie News (@MagpieChitral) June 3, 2025

تفصیلات کے مطابق واقعے کے بعد ملزم مقتولہ کا موبائل بھی لے کر فرار ہوگیا، جبکہ والدہ نے پڑوسی کی گاڑی میں ثنا کو اسپتال منتقل کیا، مگر وہ راستے میں دم توڑ گئی۔

‘واقعہ غیرت کے نام پر قتل کا نہیں ہے’

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ثنا کے قتل کی خبر وائرل ہو گئی، اور کچھ حلقے اسے غیرت کے نام پر قتل قرار دینے لگے جس کے بعد اسلام آباد پولیس کا مؤقف بھی سامنے آیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے، اور اب تک کی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ غیرت کے نام پر قتل نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق اہل خانہ نے بھی ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ملزم قانون کی گرفت میں آئیں گے۔

ثنا یوسف کون تھیں؟

17 سالہ ثنا یوسف کا تعلق اپر چترال کے علاقے چوئنج سے تھا اور وہ اسلام آباد میں مقیم مشہور سماجی کارکن سید یوسف حسن کی بڑی بیٹی تھیں۔ ثنا یوسف اسلام آباد میں پری میڈیکل کی طالبہ اور سوشل میڈیا انفلوئنسر تھیں، جن کے مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر 5 لاکھ سے زائد فالوورز تھے۔

یوسف حسن کے دوست اور رشتہ دار سید کوثر نے بتایا کہ ثنا بہت ہی معصوم بچی تھی، جو پڑھائی کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی روزمرہ زندگی کی ویڈیوز شئیر کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ چترال کے لوگ انتہائی پُرامن لوگ ہیں، اور نہ ہی یوسف حسن یا ان کی بیٹی کا کسی سے کوئی مسئلہ یا دشمنی تھی۔

سید کوثر کا بتانا ہے کہ چترال میں غیرت کے نام پر قتل کا کوئی رواج نہیں ہے اور نہ ہی ثنا کوئی ایسا کام کرتی تھیں جس سے گھر والے ناراض ہوں۔ ‘ثنا کی سوشل میڈیا ویڈیوز ان کے گھر والے ہی بناتے تھے۔ وہ اکثر ویڈیوز گھر پہ ہی بناتی تھیں جبکہ ان کا ماموں خود ہر وقت ساتھ ہوتا تھا اور ویڈیوز بناتا تھا۔’

انہوں نے بتایا کہ ثنا سب سے بڑی اولاد تھیں، جبکہ ان کا ایک اکلوتا چھوٹا بھائی ہے، جو اس وقت چند دن کے لیے آبائی گاؤں گیا ہوا تھا۔

تدفین چوئنج میں ہوگی

ثنا یوسف کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ثنا یوسف کی لاش کو قانونی تقاضے پورے ہونے پر پولیس نے لواحقین کے حوالے کیا، جس کے بعد ان کی نماز جنازہ اسلام آباد میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس کے بعد اہل خانہ باڈی کو تدفین کے لیے آبائی علاقے لے کر گئے، جہاں آج ان کی تدفین آبائی قبرستان میں کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسٹاگرام ثنا یوسف ٹک ٹاک چترال خواتین سوشل میڈیا انفلوئنسر قتل واردات

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسٹاگرام ثنا یوسف ٹک ٹاک چترال خواتین سوشل میڈیا انفلوئنسر قتل واردات غیرت کے نام پر قتل اسلام آباد میں سوشل میڈیا ایف آئی آر کے مطابق ثنا یوسف گھر میں کے بعد

پڑھیں:

کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق

شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔ 

حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل