تنخواہ دار طبقہ نے رواں سال 11 ماہ میں 499 ارب روپے ٹیکس دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
مختلف شعبوں سے ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار سامنے آگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقہ نے ٹیکس دینے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تنخواہ دار طبقے نے رواں مالی سال کے 11 ماہ میں 499 ارب روپے ٹیکس دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس کسی بھی شعبے سے وصول ٹیکس سے زیادہ ہے۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ برآمدات کے شعبے سے 96 ارب 36 کروڑ روپے جبکہ جائیداد کی فروخت سے 110 ارب 18 کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کی وصولیوں کے حتمی اعداد و شمار جاری کر دیے۔
جائیداد کی خریداری سے 109 ارب 68 کروڑ روپے ٹیکس وصول ہوا۔ تھوک کے کاروبار سے 11 ماہ میں 22 ارب 36 کروڑ روپے ٹیکس حاصل کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پرچون کے کاروبار سے 11 ماہ میں 33 ارب 30 کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رواں مالی سال کے کروڑ روپے ٹیکس تنخواہ دار ماہ میں
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔