بچوں کا جنسی استحصال، بین الاقوامی گروہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
پاکستان کے غریب بچوں سے جنسی استحصال کرانے والا بین الاقوامی گروہ بے نقاب ہوگیا۔
مظفر گڑھ کے گاؤں دیر پناہ سے 2 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، گروہ کا جرمن سرغنہ فرار ہے، بچوں کے استحصال کی ویڈیوز ڈارک ویب پر پھیلائی جاتی تھیں۔
50 بچے جنسی استحصال کا نشانہ بنے ہیں جبکہ 10 کو بازیاب کرالیا گیا ہے، اس بارے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل وقار الدین سید نے بریفنگ دی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اطلاع ملی کہ مظفرگڑھ کے گاؤں دیرپناہ میں ایک غیر ملکی آتا جاتا ہے، وہاں آپریشن کیا اور گرفتاری کی گئیں۔
وقار الدین سید نے مزید بتایا کہ مظفرگڑھ میں بچوں کو لڑائی سکھانے کےلیے باقاعدہ ایک رنگ بنایا گیا تھا، ہمیں جائے وقوعہ سے 10 بچے ملے مگر بتایا گیا کہ 50 کے قریب بچے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جرمن باشندے کی جب تفصیلات نکالیں تو پتا چلا وہ 20 دن یہاں ٹھہرا اور سیٹ لگایا، اس مقدمے میں 3 ملزمان مفرور ہیں۔
ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی معلومات لوکل سطح سے حاصل کرتا ہے، پیکا میں ترمیم کے بعد بچوں کے جنسی استحصال کی سزا 14 سے 20 سال ہو گئی ہے، بچوں کے جنسی استحصال مقدمات میں نہ راضی نامہ ہوتا ہے نہ ضمانت۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جنسی استحصال
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔