سرینگر سے جاری ایک بیان میں حریت رہنما نے کہا کہ یہ ظلم ہے اور منتخب حکومت کا فرض ہے کہ وہ وقتا فوقتا کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کے خلاف کھڑی ہو اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے مزید تین کشمیری ملازمین کی سرکاری ملازمت سے غیر انسانی اور جبری برطرفی کی مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں اس اقدام کو ظالمانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظلم ہے اور منتخب حکومت کا فرض ہے کہ وہ وقتا فوقتا کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کے خلاف کھڑی ہو اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرے۔ میر واعظ نے کہا کہ بین المذاہب مکالمے کو ایک اخلاقی تحریک میں تبدیل ہونا چاہیے جس کی جڑیں انصاف پر ہوں، کیونکہ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مذہبی رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ قوم پرستی سے اوپر اٹھیں، تنوع کی حفاظت کریں اور اقلیتوں کے حوالے سے اکثریت کے اخلاقی فرض کو برقرار رکھیں۔ فلسطین سے کشمیر تک صرف انصاف، بات چیت اور باہمی احترام ہی پائیدار امن اور انسانی مشکلات کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ میر واعظ

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن