دنیا کی سب سے طاقتور برین چپ نے انسانی آزمائش میں کامیابی حاصل کر لی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
معذور افراد کے لیے نئی امید، پیراڈرومکس کا دماغی کمپیوٹر انٹرفیس پہلی بار انسانی آزمائش میں کامیاب ہوگئی۔
امریکی بائیوٹیک کمپنی پیراڈرومکس نے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے اپنی جدید ترین برین کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) ٹیکنالوجی کو پہلی بار انسانی مریض کے دماغ میں کامیابی سے نصب کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ایلون مسک کی حمایت میں سامنے آگئے، نئی برینڈڈ ٹیسلا گاڑی خریدنے کا اعلان
یہ پیشرفت خاص طور پر ایسے مریضوں کے لیے زندگی بدل دینے والی ثابت ہو سکتی ہے جو فالج، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ یا ALS (امیوٹروفک لیٹرل سکلیروسس) جیسی بیماریوں کی وجہ سے اپنے اعضاء کو حرکت دینے سے معذور ہو چکے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سرجری میں ایک چھوٹی سی چپ نما ڈیوائس کو مریض کے دماغ کے موٹر کورٹیکس میں نصب کیا گیا ہے۔
خیالات کی طاقتیہ ٹیکنالوجی دماغی خلیوں سے نکلنے والے برقی سگنلز کو پکڑ کر انہیں ڈیجیٹل کمانڈز میں تبدیل کرتی ہے، جس سے مریض صرف اپنے خیالات کی طاقت سے کمپیوٹرز یا دیگر الیکٹرانک آلات کو کنٹرول کر سکتا ہے۔
ابتدائی نتائج سے پتا چلتا ہے کہ مریض نے صرف دماغی سوچ کے ذریعے کمپیوٹر اسکرین پر ٹائپ کرنے اور ایک روبوٹک بازو کو حرکت دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
10 گنا زیادہ عصبی ڈیٹا ریکارڈ کرنے کی صلاحیتپیراڈرومکس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر میٹ اینجل نے بتایا کہ ہماری یہ ٹیکنالوجی موجودہ BCI نظاموں کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ عصبی ڈیٹا ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض زیادہ پیچیدہ اور باریک حرکات کو بھی کنٹرول کر سکیں گے۔
یہ پیشرفت خاص طور پر اہم ہے کیونکہ:
– یہ نظام ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک کے مقابلے میں زیادہ درستگی اور رفتار سے کام کرتا ہے
– ڈیوائس میں استعمال ہونے والے مائیکرو الیکٹروڈز روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہیں
– نظام کو مستقبل میں وائرلیس طریقے سے اپ ڈیٹ کیا جا سکے گا
دماغ اور مشینوں کے درمیان تعلقماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کے ممکنہ استعمالات بہت وسیع ہیں۔ مستقبل میں یہ نہ صرف معذور افراد کو ان کی نقل و حرکت واپس دلانے میں مددگار ثابت ہوگی، بلکہ اس سے انسانی دماغ اور مشینوں کے درمیان ایک نئے قسم کے تعلق کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
’بریک تھرو ڈیوائس‘امریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات (FDA) نے اس ڈیوائس کو ’بریک تھرو ڈیوائس‘ کا درجہ دیتے ہوئے اس کے لیے تیز رفتار منظوری کے عمل کو ترجیح دی ہے۔
تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے عام استعمال کے لیے دستیاب ہونے سے پہلے مزید کئی کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہوگی۔
اعصابی بیماریاں اور امید کی کرن
یہ پیشرفت خاص طور پر اہم ہے کیونکہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد ایسی اعصابی بیماریوں کا شکار ہیں جو انہیں معذور بنا دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک نے انسان میں برین امپلانٹ کرلیا
پیراڈرومکس کی یہ کامیابی ان تمام مریضوں کے لیے نئی امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعصابی مریض برین چپ پیراڈرومکس ڈاکٹر میٹ اینجل فالج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برین چپ پیراڈرومکس ڈاکٹر میٹ اینجل فالج کے لیے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر