کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 جون2025ء) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اسمبلی کی نئی عمارت صوبے کے ثقافتی رنگ، روایات اور آئندہ کئی دہائیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کی جا رہی ہے جو عوامی نمائندگی کے اس باوقار فورم کو مزید مؤثر اور فعال بنائے گی، آئندہ بجٹ میں نوجوانوں کو ترجیح دی جائے گی اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں گے ۔

انہوں نے یہ بات کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کے نئے بلاک اور آڈیٹوریم ہال کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ،اس موقع پر صوبائی وزرا، پارلیمانی سیکرٹریز اور اراکین اسمبلی بھی موجود تھے ۔میر سرفراز بگٹی نے نئے آڈیٹوریم ہال میں پہلا باقاعدہ خطاب بھی کیا اور مختصر مدت میں منصوبے کی تکمیل پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کی پرانی عمارت اب ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہی تھی اسی لیے نئی عمارت کا منصوبہ ترتیب دیا گیا جو وفاقی حکومت کی معاونت سے مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نئی عمارت میں اراکین اسمبلی کے لیے جدید سہولیات دستیاب ہوں گی اور ایوان کی بہتری کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ترقیاتی فنڈز کا 90 فیصد سے زائد بروقت استعمال ہوا جو حکومتی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں نوجوانوں کو ترجیح دی جائے گی اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ سرپلس ہوگا جو مالی نظم و ضبط اور بہتر منصوبہ بندی کی علامت ہے ۔امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں جن کے مثبت اثرات پورے صوبے میں محسوس کیے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں امن بحال ہو رہا ہے اور ہر جگہ شاہراہیں کھلی ہیں جو ترقی اور استحکام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔\932.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جائیں گے انہوں نے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن