ثناءیوسف اورقاتل کارابطہ اوردوستی کیسے ہوئی؟اندرکی بات سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت میں ٹک ٹاکرثناء یوسف کے قتل کے حوالے سے معروف صحافی نے اہم انکشافات کرتے ہوئے اندرکی بات بتادی۔ ٹک ٹاکرثناء یوسف کومبینہ دوست عمر حیات عرف کاکا نے گھر میں گھس کر قتل کیا اور اب اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں، پولیس یہ بھی تحقیقات کررہی ہے کہ ملزم کے لیے دروازہ کسی نے کھولا یا پھر مقتولہ کی والدہ کے بازار جاتے وقت کھلا رہ گیا جس سے وہ دوسری منزل پر موجود متعلقہ کمرے تک پہنچنے میں کامیاب ہواجہاں ثناء یوسف موجود تھی، پولیس یہ بھی جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ کیا ملزم وہاں پہلے سے موجود تھا اور گلی میں موقع کی تلاش میں رہا یا نہیں۔ سینئر صحافی ایاز اکبر یوسفزئی نے نجی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ 17 سالہ ثناء یوسف کا تعلق چترال سے تھا، اس کا عمر حیات عرف کاکا سے ایک سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے رابطہ ہواتھا، ان کی آپس میں گفتگو چلتی رہی اور پھر دوستی ہوگئی ، اس کے بعد دونوں مذکورہ ایپ سے واٹس ایپ پر شفٹ ہوگئے،29 تاریخ کو ثنا ءکی سالگرہ تھی، عمر حیات اس موقع پرتحائف لے کر فیصل آباد سےاسلام آباد آگیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عمر حیات کا متوسط طبقے سے تعلق ہے،ایک دو سے تین مرلے کے گھر میں رہتے ہیں، وہ کسی سے مانگ کر گفٹ وغیرہ اٹھا کر لے آیا اور جب یہاں پہنچا تواس نے ملنے کی کوشش کی لیکن ثناء نے انکار کردیا کہ مجھے گھر سے اجازت نہیں ،پھر ان کاآپس میں طے ہوا کہ 2 تاریخ کو ملیں گے ، جس دن اس کاقتل ہوا، 2 تاریخ کو وہ پھر آیا اور صبح صبح ہی پہنچ گیا،اس نے ایک گاڑی کرائے پر لی،اس گاڑی میں اس کا انتظار کرتا رہا، تقریباً 9 گھنٹے فون پر رابطے کی کوشش میں رہا ،پہلے تو مقتولہ فون نہیں اٹھارہی تھی ، پھر اس کے بعد جب رابطہ ہوتا تو وہ کہتی کہ مجھے گھر سے اجازت نہیں ہے،ہم آج نہیں مل سکتے جس پر ملزم مشتعل ہوگیااور اسلحہ لے کر آگیا کیونکہ گھر کا ایڈریس تو 29 مئی سے ہی اسے معلوم تھا۔ ایازاکبر نے مزید بتایا کہ پھر جیسے ہی ملزم دروازہ کھلا دیکھتا ہے تووہ اوپرچلا جاتا ہے اور جاتے ساتھ ہی ثناءسے سامنا ہوا تو اس نے کہا کہ تم پانی پی لو ، یہاں کیمرے ہیں تم چلے جاؤ ، میرے گھر والے آجائیں گے، اس دوران اس نے بات سنے بغیر اس پر فائر کردیئے۔ ایک سوال کے جواب میں معروف صحافی نے بتایا کہ یہ دونوں تقریباً 6 سے 7 مہینے سے سوشل میڈیا ایپ پر رابطے میں تھے، گپ شپ ہورہی تھی لیکن ملاقات برتھ ڈے پر ہونی تھی، پہلے 29 کو پھر 2 کو طے پایا تھا، ملزم نے کوئی ہوٹل بھی بک کررکھا تھا کہ ہم وہاں پر قیام کریں گے، جس پر لڑکی شاید ڈر گئی ہوگی،لڑکی نے انکار کیا تو ملزم نے انتہائی قدم اٹھا لیا۔ملزم واردات کے بعد وہاں سے بھاگا ،پہلے بائیک پر لفٹ لی،اس کے بعد گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی کہیں چھوڑی، 26 نمبر چونگی سے بس میں بیٹھا اورفیصل آباد بھاگ گیا۔ یادرہے کہ ملزم کوفیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ سے پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جسے شناخت پریڈ کے لیے عدالت نے جیل بھجوا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بتایا کہ عمر حیات کے بعد
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔