چین نے پاکستان افغانستان ازبکستان ریل لنک منصوبہ سی پیک میں شامل کرنے پر آمادگی ظاہر کردی، وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
وزیر خارجہ اسحاق ڈار : فائل فوٹو
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ چین نے پاکستان افغانستان ازبکستان ریل لنک منصوبہ سی پیک میں شامل کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ ٹرانس افغان ریل منصوبے کے معاہدے پر اس جون کے پہلے ہفتے میں دستخط ہونا تھے، مگر افغانستان کی جانب سے تاخیر کی وجہ سے ازبکستان میں معاہدے پر دستخط کا پروگرام موخر ہوا۔
نائب وزیراعظم نے بھارتی اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور بھارت کی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کی مذمت کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 19 مئی کو بیجنگ میں پاک افغان چین سہ فریقی مذاکرات میں اس منصوبے پر بات ہوئی تھی، اچھی خبر یہ ہے کہ چین نے سی پیک کو افغانستان تک بڑھا دیا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب کا ایک روزہ دورہ کریں گے، سعودی عرب نے حالیہ دنوں جو کردار ادا کیا اس پر شکریہ ادا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔