WE News:
2026-07-24@05:53:26 GMT

پاکستان کا افغان پرابلم ہمارا مائنڈ سیٹ ہے

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

افغان کہاوت ہے کہ جس کا قندھار اسی کا کابل۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے پاس قندھار میں اقتدار ہوگا اسی کا سکہ کابل میں چلے گا۔ ہم جب کابل سے معاملہ کرنے لگتے ہیں تو ہم قندھار فیکٹر کو زیادہ تر نظرانداز کرتے ہیں۔ اسلام آباد کو خیبر پختون خوا نزدیک پڑتا ہے۔ قندھار کا مزاج بلوچستان کی پشتون بیلٹ سے ملتا ہے۔

خیبرپختون خوا میں طاقت کا مرکز پشاور ویلی میں گھومتا رہتا ہے۔ پشاور ویلی کے 5 اضلاع ہیں۔ پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور صوابی۔ اس پشاور ویلی میں سیاست کی امامت باچا خان کی فکر کے پاس رہی ہے۔ پشتو ادب پر بھی اس کے اثرات گہرے ہیں۔ اس اکثریتی سوچ کی مخالفت کرنے والے بھی کبھی کمزور نہیں رہے۔ اقتدار ان کے پاس زیادہ عرصہ رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اسی پشاور ویلی کو لاڑکانہ بنائے رکھا۔

آگے بڑھنے سے پہلے ایک اور بات بتانا بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ، پنڈی یا فوج کا ذکر بھی سیاست کے ساتھ لازمی ہوتا ہے۔ اگر آپ اٹک پل پر کھڑے ہو کر ایک بڑا گول دائرہ لگائیں تو اٹک، پنڈی، جہلم اور چکوال یعنی پرانا پنڈی ڈویژن، پشاور ویلی اور اس کے ساتھ کوہاٹ کا ضلع اس دائرے میں آ جائیں گے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے فوج کی رولنگ ایلیٹ اور فٹ سولجر آتا رہا ہے۔ اگر آپ کو فوج کی سیاست میں مداخت پر سوال اٹھانے ہیں تو پھر جہاں سے فوج کی رولنگ ایلیٹ آتی ہے، اس علاقے کو بھی جان لیں۔

سابق فاٹا 7 ایجنسیوں اور 6 ایف آر پر مشتمل علاقہ تھا۔ فاٹا کی 6 ایجنسیاں افغانستان باڈر (ڈیورنڈ لائن ) کے ساتھ لگتی ہیں۔ باجوڑ ، مہمند، خیبر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان پہلے ایجنسیاں کہلاتے تھے اب اضلاع کا درجہ پا گئے ہیں۔

آپ صرف اجتماعی ذمہ داری کے قانون ایف سی آر وغیرہ سے ہی واقف ہوں گے۔ ٖفاٹا کے زیر انتظام تمام ایجنسیاں وفاق کے ماتحت تھیں اور وفاق کی جانب ہی دیکھتی تھیں۔ امریکا اور اتحادیوں کی افغانستان آمد تک سارا فاٹا ہی اس طرف چلتا تھا جدھر وفاقی حکومت یا ریاست جا رہی ہوتی تھی۔ جو ریاست کی کشمیر پالیسی ہوتی تھی وہی فاٹا والوں کا ایمان قرار پاتی تھی۔ جو روس کے خلاف افغان پالیسی تھی اس کو بھی فاٹا کے اضلاع سے ہی بھرپور حمایت ملی۔ ہمارا اب اس میں کمال دیکھیں کہ ہم نے ان فاٹا والوں کے ساتھ کیا کیا۔

فاٹا والوں کو ہم نے افغانوں کے دستر خوان پر بٹھائے رکھا۔ یہ سخت بات کہے بغیر آپ کو بات سمجھ نہیں آئے گی۔ ٹرانزٹ ٹریڈ پر فاٹا والوں کی آمدن کا انحصار تھا۔ یہ وہ سہولت تھی جو اٖفغانستان کو فراہم کی گئی تھی۔ اس کی وجہ سے ہمارے فاٹا والوں کے کچن کا انحصار افغان حکومت کی امپورٹ پالیسی ریوینیو اور ٹیکس پر تھا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ افغان بزنس مین کے لیے پاکستان بزنس آپشن بنتا۔ الٹا ہمارے فاٹا کا قبائلی اپنی کمائی روزگار کے لیے افغان حکومت کی طرف دیکھتا رہا۔

باچا خان اپنی وصیت کے مطابق جلال آباد میں دفن ہوئے۔ ہماری لاہوری پنجابی سوچ نے اس کو غداری سے جوڑ کر دیکھا۔ ایک بلاوجہ کے پریشر میں آئے، افغانستان سے زیادہ پختون پاکستان میں ہیں۔ جو زیادہ تعلیم یافتہ، زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ ہمیں شک رہتا ہے کہ افغانستان کے ہاتھوں یہ استعمال نہ ہو جائیں۔ ایسا سوچتے ہم کو شرم بھی نہیں آتی۔ ہم ابھی نہیں تو کبھی سمجھ ہی جائیں گے کہ باچا خان نے جلال آباد میں دفن ہو کر پختونوں کو بھی ایک کر دیا تھا اور پاکستان افغانستان کو بھی بھائی بندی میں باندھ دیا تھا۔

سکندر اعظم تو گجرات میں ہاتھ کھڑے کر گیا تھا۔ افغان یا پختون نان سٹاپ دہلی پہنچتے رہے۔ وجہ اس کے علاوہ کیا ہے کہ دہلی سے پہلے موجودہ پاکستان کے علاقے میں بسنے والی اقوام کے ساتھ اتحاد سے ہی یہ باہرو باہر دہلی پہنچے۔ آج کی تاریخ میں اگر افغانستان آ کر روس امریکا ٹک نہیں سکے تو اس کی وجہ بھی پاکستان سے ملی حمایت ہی تھی۔

ہم افغانستان کو اپنے خوف اور وہم کے زیر اثر بنائی پالیسیوں سے ڈیل کرتے ہیں۔ فاٹا والوں کو باعزت روزگار، کمائی اور شہری حقوق کا ذمہ ہمارا ہے۔ جب وہ وفاق سے راضی تھے تو فوج کی تعیناتی کے بغیر روس کی موجودگی میں ڈیورنڈ لائن پرسکون رہی۔ جبکہ ہم واضح طور پر روس کے خلاف جنگ میں اترے ہوئے تھے۔
امریکا اور اتحادیوں کی موجودگی اور روانگی میں افغانستان کی ڈائنامکس بھی بدلی ہیں۔ لویا پکتیا (خوست، پکتیا، پکتیکا) والوں نے جنگ میں اپنا آپ منوایا ہے۔ حقانیوں نے لویا پکتیا کی قیادت کی ہے۔ اس ایریا کے ہمارے فاٹا سے گہرے قبائلی سماجی تعلقات ہیں۔ ہم کابل سے بات کرتے ان تعلقات پر زیادہ انحصار کرنے کی غلطی کر رہے ہیں۔

2012 میں پاکستان اور افغانستان نے جے سی سی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی تھی۔ اس کے اب تک 7 اجلاس ہو چکے ہیں۔ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کمیٹی کے 2 اجلاس ہوئے ہیں۔ دونوں بار اس افغان سائیڈ سے اس کمیٹی کی سربراہی قندھاری ہیوی ویٹس نے کی ہے۔ اپریل میں ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈپٹی وزیر دفاع عبدالقیوم ذاکر نے کی۔ 17 ماہ پہلے ہونے والے اجلاس کی صدارت گورنر قندھار ملا شیریں نے کی تھی۔

اگر ہم افغانستان کے حوالے سے اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کر لیں، وہم کرنا چھوڑیں، اس تازہ اعتماد کو ہی کام میں لے آئیں جو حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد ہم میں آیا ہے تو ہم فاٹا کو بھی مطمئین کرنے کے طریقے ڈھونڈ سکتے ہیں، بلوچستان میں وہ غلطیاں دہرانے سے گریز کر سکتے ہیں۔ اور افغانوں سے زیادہ اچھے اور بہتر تعلقات کار قائم کر سکتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

افغانستان پاکستان وسی بابا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان پاکستان پشاور ویلی کے ساتھ فوج کی کے لیے کو بھی

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو