بلوچستان اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی مسودہ 2025 قانون منظور
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو ادارے اٹھاتے ہیں، تو تحقیقات کیلئے اسے 3 ماہ تک حراستی سینٹر میں رکھنے کا اختیار ہوگا۔ 3 ماہ بعد عدالت میں پیش کرکے اس پر لگائے جانیوالے الزام سے آگاہ کیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان اسمبلی نے انسداد دہشتگردی ترمیمی مسودہ قانون 2025 منظور کرلیا۔ بل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اس کی منظوری سے صوبے میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا۔ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی صادق سنجرانی نے انسداد دہشتگردی بلوچستان کا ترمیمی مسودہ قانون پیش کیا۔ بل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو ادارے اٹھاتے ہیں، تو تحقیقات کے لئے اسے 3 ماہ تک حراستی سینٹر میں رکھنے کا اختیار ہوگا۔ 3 ماہ بعد عدالت میں پیش کرکے اس پر لگائے جانے والے الزام سے آگاہ کیا جائے گا۔ گرفتار شخص کو ایک سینٹر میں رکھا جائے گا، جہاں اسے والدین سے ملنے کی اجازت ہوگی۔ یہ قانون 6 سال کے لئے ہوگا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک منظم انداز سے بلوچستان کے نوجوانوں کو بدظن اور ایک دوسرے سے الگ کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان میں لوگ خود سے غائب ہوتے ہیں، بعد میں کسی دہشتگرد تنظیم کو جوائن کرتے ہیں اور الزام ریاستی اداروں پر لگا دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ صوبے میں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو۔ اس بل کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے اور حکومت یہ گارنٹی دے کہ دوران حراست کسی کا قتل نہیں ہوگا۔ رکن اسمبلی شاہدہ رؤف کا کہنا تھا کہ اس بل کو جلدی میں منظور نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اس پر نظرثانی کی جانی چاہئے۔ بعد ازاں انسداد دہشتگردی بلوچستان کا ترمیمی مسودہ قانون 2025 ایوان میں منظور کرلیا گیا، جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی کا کہنا تھا کہ کے لئے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔