پاکستان نے بھارت کو عسکری میدان، بیانیہ کی جنگ اور سفارتی محاذ پر موثر اور بھرپور انداز میں شکست دی، بھارتی بیانیہ کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا ہوا، وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 جون2025ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے عسکری میدان، بیانیہ کی جنگ اور سفارتی محاذ پر بھارت کو موثر اور بھرپور انداز میں شکست دی، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سفارتی محاذ پر پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا، پاکستانی میڈیا نے حقائق کے ساتھ ذمہ دارانہ صحافت کی جبکہ بھارتی میڈیا نے فیک نیوز اور جھوٹ کا سہارا لیا، کشیدہ صورتحال میں پاکستانی قوم نے مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کیا، بھارتی بیانیہ کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا ہوا، بھارت اپنی خفت مٹانے کے لئے جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا کر رہا ہے۔
بدھ کے روز یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سفارتی محاذ پر پاکستان کا موقف موثر اور جرات مندانہ انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا، نائب وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے جانفشانی سے کام کیا، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا ذمہ دارانہ جواب دے کر عالمی سطح پر ایک سنجیدہ ریاست کا تاثر دیا۔(جاری ہے)
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے روایتی طور پر جھوٹ اور فیک نیوز کا سہارا لیا، بھارتی میڈیا نے لاہور میں بندرگاہ تک بنا دی لیکن پاکستانی میڈیا نے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ذمہ دارانہ صحافت کی مثال قائم کی۔ اس سفارتی اور بیانیہ کی جنگ میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی جس میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم، سفارتی ٹیم، میڈیا ہائوسز، اینکرز اور صحافیوں کا کلیدی کردار ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ ریاست کے طور پر رسپانس دیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور وار سٹریٹجی نے بھارت کو ہر محاذ پر پسپائی پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”معرکہ حق“ اور ”آپریشن بنیان مرصوص“ کو تاریخ میں سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ کشیدہ صورتحال میں پاکستانی قوم نے جس اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ مثالی تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی بیانیہ کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا ہوا، افواج پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور بھارت کر بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، اب بھارت اپنی خفت مٹانے کے لئے جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہے۔ بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو اس کی واضح مثال ہے۔ بھارت کی دہشت گردانہ سرگرمیاں پاکستان سمیت کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا تک پھیل چکی ہیں اور یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارتی نیوی کا حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو فرضی نام سے اپنے آپ کو بزنس مین ظاہر کرکے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا جسے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے فنڈنگ کر رہا ہے لیکن افواج پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مودی، بھارتی سیاستدان، حکومتی عہدیداران اور وزراء اپنی تقاریر میں بلوچستان کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان بلوچستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کی نہ صرف فنڈنگ کرتا ہے بلکہ اسلحہ بھی مہیا کرتا ہے اور بہت ساری کارروائیوں میں ان کے ہینڈلرز ملوث ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ فتنہ الہندوستان سے افواج پاکستان اچھے طریقے سے نمٹ رہی ہیں، دہشت گردوں کو جہنم واصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نریندر مودی نے 1971ء میں مکتی باہنی کی حمایت کرنے کا اعتراف کیا، یہ ہمیشہ پراکسیز کے ذریعے اپنی جنگیں لڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے تحت بھارت پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں میں ملوث ہے، ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر دہشت گرد ریاست پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، فتنہ الہندوستان کا خاتمہ ضرور ہوگا اور بلوچستان میں امن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس واقعہ میں بھارتی میڈیا کا کردار اور دہشت گردوں کو کوریج دینا ان کے ایجنڈے کو بے نقاب کرتا ہے۔ پاک فوج اور ایس ایس جی نے جس مہارت سے یرغمال لوگوں کو کم سے کم نقصان پر بازیاب کروایا یہ ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹی وی چینلز پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے انٹرویوز چلائے جا رہے تھے جو جعفر ایکسپریس واقعہ کے ذمہ دار تھے۔ بھارتی میڈیا پر ٹرین کی پٹڑی کو اڑتے ہوئے دکھایا گیا، یہ فوٹیج پاکستان سے پہلے بھارت میں آن ایئر ہوئی۔ یہ سب چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس واقعہ پر بھارت میں جشن منایا گیا، خضدار میں معصوم بچوں کونشانہ بنایا گیا، بھارت کی دہشت گردی پر مبنی پالیسی نہیں چلے گی، فتنہ الہندوستان کا بلوچستان سے ضرور خاتمہ ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعہ پر غیر جانبدارانہ، شفاف عالمی تحقیقات کی پیشکش کی جس سے بھارت پیچھے ہٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے موثر حکمت عملی کے ذریعے دشمن کو بھرپور جواب دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی لائف لائن ہے، بلوچستان میں قیام امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر کو ہر قیمت پر آگے بڑھایا جائے گا اور فتنہ الہندوستان کا خاتمہ کر کے پاکستان کو پائیدار امن کی طرف لے جایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وفد نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، جنرل اسمبلی کے صدر، چین، امریکہ، برطانیہ اور روس کے نمائندوں اور تھنک ٹینکس سے اہم ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر فورم پر وفود کے ذریعے بھرپور طریقے سے بتایا جارہا ہے کہ بھارت کے سٹیٹ سپانسرڈ ٹیررازم کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے گمراہ کن پراپیگنڈے کو ہر سطح پر ناکام بنائے گا اور خطے میں امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں بلوچستان میں دہشت گردی نے کہا کہ بھارتی انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ بھارت سفارتی محاذ پر کو ہر محاذ پر بھارتی میڈیا پاکستان نے کہ پاکستان نے بھارت کا سامنا بھارت کو میڈیا نے جائے گا
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔