آج کا دن ہمیں ماحول کی اہمیت اور اس کی حفاظت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے، سید یوسف رضا گیلانی
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 جون2025ء) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آج کا دن ہمیں ماحول کی اہمیت اور اس کی حفاظت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے،یہ دن نہ صرف ایک یاد دہانی ہے بلکہ ایک اجتماعی عزم کا موقع بھی ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو ایک صاف، سرسبز اور محفوظ ماحول فراہم کریں۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ماحول کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین سینٹ سید یوسف ر ضا گیلانی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور آبی وسائل کی کمی جیسے چیلنجز ہمارے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہ، ان مسائل کا حل صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری، ادارے، اور معاشرے کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے ہمیں مقامی، قومی اور عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کو فروغ دینا ہوگا،شجرکاری، پانی کے درست استعمال، پلاسٹک سے اجتناب، اور قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان ماحولیاتی تحفظ کے لیے قانون سازی، پالیسی سازی اور نگرانی کے عمل میں اپنی مکمل ذمہ داری نبھاتا رہے گا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں اور آگاہی پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کریں۔ چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک سرسبز و شاداب ملک کے طور پر دنیا میں ایک مثال بنے گا جہاں ترقی اور ماحول ایک ساتھ آگے بڑھیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سید یوسف نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔