موسمیاتی تبدیلیاں، پاکستان متاثرہ ممالک میں شامل ہے: آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک :صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
صدر نے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر کہا کہ موسمیاتی تبدیلی میں سیلاب، خشک سالی اور گرمی کی شدت سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے، فضا میں کاربن کے عالمی اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
انہوں نے کہاکہ محدود وسائل کے باوجود ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششیں اقتصادی منصوبے اڑان پاکستان سے ہم آہنگ ہیں۔
صدرِ مملکت سے سردار سلیم حیدر سمیت پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پلاسٹ کا کم استعمال، جنگلات کا فروغ، ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی تحفظ کی پالیسیوں کو اپنانا ہو گا۔
انہوں نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور قدرتی وسائل کے ذمے دارانہ استعمال کیلئے مل کر کام کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔