بلاول بھٹو کی امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں، پاکستانی موقف پیش کیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
تصویر بشکریہ سوشل میڈیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پاکستانی پارلیمانی سفارتی مشن کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وفد نے امریکی کانگریس کے اراکین سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
بلاول بھٹو نے پاک بھارت جنگ بندی میں غیرمعمولی کردار اور مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے پر امریکی حکام اور ٹرمپ انتظامیہ سے اظہار تشکر کیا۔
پاکستانی وفد نے سینیٹرز جم بینکس، کرس وان ہولن اور سینیٹر کوری بوکر سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کیں۔ پاکستانی وفد کانگریس کی خارجہ امور ذیلی کمیٹی برائے جنوبی اور وسطی ایشیا سڈنی کملاگرڈو اور رکن کمیٹی برائے خارجہ امور رکن کانگریس ٹام کین جونئیر سے بھی ملاقاتیں کیں۔
جن دیگر اراکین کانگریس سے ملاقات کی گئی ان میں امریکی سینیٹر ایلیسا سلوٹکن اور کانگریس مین جان مولینار بھی شامل تھے۔ وفد نے علاقائی امن اور بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کیا۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے بھارتی اقدامات کا نوٹس لیا جائے۔ سابق وزیر خارجہ نے پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے امریکی قیادت کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ جارحیت کی بجائے ڈائیلاگ، ڈپلومیسی اور مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نکالا جانا چاہیے۔
پاکستانی وفد نے جموں و کشمیر تنازعہ کے منصفانہ حل اور مذاکرات پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے آج بھارت میں ایک ہی نام بلاول بھٹو گونج رہا ہے، شرجیل میمن امن کی جدوجہد میں پاکستانی کمیونٹی کیساتھ کے ضرورت ہے: بلاول بھٹو زرداری پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے: بلاول بھٹوپاکستان اور امریکا کے تجارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاک امریکا تجارت دونوں ملکوں کے درمیان تعمیری روابط اورعوام کی بہتری کیلئے پل ہے۔
امریکی کانگریس کے اراکین نے پاکستان کے اقتصادی استحکام اور امن کے اہداف کے لیے حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستانی عوام سے اظہار یکجہتی اور معاشی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔